مدھیہ پردیش سے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی پرچہ نامزدگی مسترد

,

   

الیکشن کمیشن نے اپوزیشن وفد پر دروازے بند کردئے ۔ کمیشن کے روبرو کانگریس قائدین کا دھرنا۔ ’ ووٹ چوری ‘ کے بعد ’ سیٹ چوری ‘ : ریونت ریڈی

حیدرآباد 9 جون(سیاست نیوز) کانگریس راجیہ سبھا امیدوار میناکشی نٹراجن کے پرچہ ٔ نامزدگی کو آج مدھیہ پردیش میںریٹرننگ آفیسر نے مسترد کردیا ۔ اس استرداد کے ساتھ ہی ملک کی سیاست میں تہلکہ مچ چکا ہے اور کانگریس سرکردہ قائدین جو الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تھے انہیں کمیشن دفتر میں داخل ہونے سے روک کر باب الداخلہ کو بند کردیا گیا۔ ریٹرننگ آفیسر راجیہ سبھا انتخابات مدھیہ پردیش نے آج بعد تنقیح میناکشی نٹراجن کے پرچہ ٔ نامزدگی میں معلومات کو مخفی رکھنے کا الزام عائد کرکے پرچۂ نامزدگی کو مسترد کردیا ۔ ریٹرننگ آفیسر نے بی جے پی کے امیدوار کی شکایت پر ان کے پرچۂ نامزدگی کو تلنگانہ میں عدالت سے جاری ایک سمن کی بنیاد پر مسترد کیا جبکہ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ سمن کے سلسلہ میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے ۔ میناکشی نٹراجن کے خلاف مقدمہ میں بتایا گیا کہ اس مقدمہ کا کسی کو علم نہیں ہے اور جس شکایت اور سمن کو بنیاد بناکر ان کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کیا گیا ہے وہ قانونی طور پر غلط ہے۔بی جے پی امیدوار مہیش کیوٹ کی شکایت اور کاروائی کو کانگریس نے غیر قانونی قرار دیا ۔ میناکشی نٹراجن جو کہ تلنگانہ کے تنظیمی امور کی انچارج ہیں ان کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کئے جانے پر چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی نے کہا کہ جو لوگ اب تک ’ووٹ چوری کر رہے تھے وہ اب ’سیٹ چوری ‘ کرنے لگے ہیں۔ وزیر مدھیہ پردیش نے اس کارروائی پر دعویٰ کیا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف تلنگانہ میں مقدمہ کی تفصیلات بی جے پی کو تلنگانہ کانگریس سے ملی ہیں۔ ان کے اس دعویٰ کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے ۔ میناکشی نٹراجن نے کہا کہ ان کے پرچہ ٔ نامزدگی میں کوئی خامی نہیں ہے اور نہ تلنگانہ میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ زیر دوراں ہے جسے انہوں نے مخفی رکھا ہو۔ انہو ںنے بتایا کہ منظم سازش کے ذریعہ ان کے پرچۂ نامزدگی کو مسترد کیاگیا ہے اس فیصلہ کے خلاف وہ الیکشن کمیشن سے رجوع ہوں گی۔مدھیہ پردیش کی 230 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں فی الحال 229 اراکین اسمبلی موجود ہیں اور ڈگ وجئے سنگھ کی معیاد کی تکمیل پر کانگریس نے میناکشی نٹراجن کو امیدوار بنایا تھا۔ مدھیہ پردیش میں رکن راجیہ سبھا انتخاب کیلئے 58 ترجیحی ووٹ حاصل کرنا لازمی ہے اور کانگریس کے پاس 64 اراکین اسمبلی ہیں ‘ بی جے پی نے پرچہ ٔ نامزدگی کے آخری دن تیسرے امیدوار مہیش کیوٹ کو میدان میں اتارکر پرچۂ نامزدگی داخل کیا اس کے بعد سے ہی کانگریس اپنے اراکین اسمبلی کو بی جے پی کی جانب سے خریدنے کی کوششوں کا الزام عائد کرکے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوششوں کا آغاز کرچکی تھی۔ پرچۂ نامزدگی مسترد ہوتے ہی کانگریس سرکردہ قائدین نے ریٹرننگ آفیسر پر جانبداری کا الزام عائد کرکے کہا کہ جو مقدمہ درج ہی نہیں ہوا ‘ اس کی تفصیلات کس طرح پرچہ نامزدگی میں درج کی جاسکتی ہیں!بتایاجاتاہے کہ کانگریس ہائی کمان نے پرچۂ مسترد ہونے کا سخت نوٹ لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کردیا اور ذرائع کے مطابق سازش کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جانے لگا ہے۔ میناکشی نٹراجن ’گاندھی ‘ خاندان سے بہت قریب ہیں۔3