مرکز کے خلاف کے سی آر کا اعلان جنگ ۔ دھان نہ خریدنے پر دہلی میں احتجاج کرنے کا انتباہ، اندرا پارک پر احتجاجی دھرنے سے خطاب
حیدرآباد 18 نومبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج بی جے پی کے خلاف عملا اعلان جنگ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جب کبھی انتخابات کا موسم آتا ہے پارٹی فرقہ وارانہ منافرت کو بھڑکاتی ہے ۔ سرحدات پر ڈرامہ کیا جاتا ہے ۔ ہندو ۔ مسلم کا راگ الاپا جاتا ہے اور سرجیکل اسٹرائیک کی باتیں کی جاتی ہیں۔ تاہم بی جے پی کے سارے ڈرامے سے اب ملک کے عوام واقف ہوچکے ہیں اور اس کا سارا کھیل بے نقاب ہوتا جا رہا ہے ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے دھرنا چوک اندرا پارک پر مرکزی حکومت کے خلاف منعقدہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اصل مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے فرقہ وارانہ منافرت کا کھیل کھیلتی ہے ۔ سرحدات پر ڈرامے کئے جاتے ہیں۔ ہندو ۔ مسلم راگ الاپے جاتے ہیں۔ پاکستان کو گھسیٹا جاتا ہے اور سرجیکل اسٹرائیک کی باتیں کی جاتی ہیں۔ بی جے پی کا یہ کھیل اب ختم ہونے والا ہے ۔ اب وہ وقت گذر چکا ہے جب لوگ اس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا کرتے تھے ۔ اب لوگوں پر بی جے پی کے ڈراموں کی اصلیت کھلنے لگی ہے ۔ لوگ اس سے واقف ہو رہے ہیں اور اس کھیل کو سمجھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ کسانوں کو مسائل سے دوچار کیا جا رہا ہے ۔ دلتوں کی زمرہ بندی ‘ ریاست میں قبائلی اور بی سی طبقات کی آبادی میں اضآفہ ہوا ہے ۔ ان کے تحفظات میں توسیع کیلئے مرکزی حکومت رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ اسمبلی میں قرار داد منظور کی گئی اس کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ انتخابات کے موقع پر صرف ڈرامہ بازی اور مذہبی منافرت کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ انتخابات آتے ہی اصل مسائل کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے اور ہندو ۔ مسلم کا راگ الاپا جاتا ہے ۔ پاکستان کا نام لے کر جذبات کو مشتعل کیا جاتا ہے ۔ کیا یہی سیاست ہے ؟ ۔ حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے کہ آیا اسی لئے عوام نے انہیں منتخب کیا تھا ؟ ۔ کے سی آر نے آج مرکز کے خلاف آر پار کی لڑائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابتداء ہے اس کو انتہا سمجھنے کی ہرگز غلطی نہ کریں۔ ہم تلنگانہ کے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کسی بھی حد تک جانے تیار ہیں ۔ ضرورت پڑنے پر شمالی ہند کے کسانوں کے ساتھ ملکر احتجاجی مہم میں شدت پیدا کی جائے گی اور دہلی میں بھی احتجاج کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت تلنگانہ سے دھان خریدے گی یا نہیں اس کی وضاحت کی جائے۔ دھان کی خریدی کیلئے آج اندرا پارک پر منظم کردہ دھرنے منظم کیا گیا تھا ۔ دھرنے میں وزراء ، ٹی آر ایس ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ، ارکان کونسل کے علاوہ دیگر قائدین نے شرکت کی۔ انہوں نے کہ کہ مرکز کی دوہری پالیسیوں کی وجہ سے تلنگانہ کے زرعی شبہ اور کسانوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات ہیں ۔ مرکزی حکومت اپنی پالیسیوں میں ترمیم کرے اور ریاستوں سے انصاف کرے۔ بصورت دیگر بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی خریدی کیلئے وہ کل ہی وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرچکے ہیں ۔ تلنگانہ حکومت کسانوں کے مفادات کا احترام کرتے ہوئے کام کررہی ہے جبکہ مرکزی حکومت کسانوں کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ مرکزی حکومت کے خلاف شروع ہوا احتجاج یہیں ختم نہیں ہوگا بلکہ دور تک جائے گا ۔ انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر احتجاج میں شرکت کرنے پر بی جے پی کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ سال 2006 میں بحیثیت چیف منسٹر گجرات مودی نے 51 گھنٹوں کا احتجاج کیا تھا ، ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہمیں ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے احتجاج پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کا 101 واں مقام ہے اس سے بڑھ کر شرمندگی اور کیا ہوسکتی ہے۔ ملک میں 12 کروڑ کسان ہیں، 40 کروڑ ایکر زرعی اراضی ہے، بڑی بڑی ندیاں موجود ہیں ، بڑے پیمانے پر کاشت کی گنجائش ہے۔ ملک کی نصف آبادی کا انحصار زرعی شعبہ پر ہے لیکن مرکز سے کسانوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ ہم نے دھان خریدنے کا مطالبہ کیا مرکزی حکومت ہمارے مطالبہ کو نظرانداز کررہی ہے اور تلنگانہ میں دھان نہ خریدنے کا بی جے پی الزام عائد کررہی ہے جبکہ دھان خریدنے کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہے۔ مرکز ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لے اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ دہلی کی سرحد پر کسان ایک سال سے احتجاج کررہے ہیں، مرکزکے زرعی بلز کے خلاف سارے ملک میں کسان ناراض ہیں ۔ مرکزی حکومت فوری اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے اور کاشت پر اقل ترین قیمت ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو چلانے میں تمام پارٹیوں کی حکومتیں ناکام ہوگئی ہیں۔ ن