وزیراعظم کو راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے کا مکتوب، او بی سی طبقات زمرہ کی ضرورت، موجودہ طریقہ کار محض دکھاوا
حیدرآباد 25 اگست (سیاست نیوز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن ملکارجن کھرگے نے ملک میں طبقاتی مردم شماری کے مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کیا۔ کانگریس قائدین نے مردم شماری کے ضمن میں موجودہ سوالنامہ کو کالعدم کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں، ماہرین اور عوامی رائے حاصل کرتے ہوئے نیا سوالنامہ ترتیب دینے کا مطالبہ کیا۔ راہول گاندھی اور کھرگے نے کہاکہ وہ موجودہ طریقہ کار سے ملک میں طبقاتی مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ اور بہار میں کئے گئے طبقاتی سروے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مردم شماری میں تمام طبقات کی تفصیلات کے حصول کو یقینی بنائے۔ اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے راہول گاندھی اور کھرگے کا مکتوب میڈیا کے لئے جاری کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے طبقاتی سروے کی مساعی محض ایک دھوکہ اور دکھاوا ہے۔ جئے رام رمیش نے بتایا کہ کانگریس قیادت نے طبقاتی سروے کے مسئلہ پر وزیراعظم کو 3 مکتوب روانہ کئے لیکن ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ کھرگے اور راہول گاندھی نے مکتوب میں کہاکہ ہندوستان میں سماجی انصاف کی پالیسیوں پر مؤثر عمل آوری تمام طبقات کی حقیقی تعداد کے تعین اور اُن کی صورتحال کا جائزہ لئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مردم شماری میں تمام طبقات کی مکمل تفصیلات حاصل کرتے ہوئے اُن کی آبادی اور پسماندگی کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ذات پات کی تفصیلات حاصل کرنے کے لئے مردم شماری میں جس سوالنامہ کا تعین کیا گیا، وہ گمراہ کن ہے۔ موجودہ طریقہ کار میں جو بھی نام اور کاسٹ کے بارے میں جو تفصیلات فراہم کی جائیں گی اُنھیں ریکارڈ کرلیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان میں مختلف ذیلی طبقات علیحدہ ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں اور علاقوں میں لسانی بنیادوں پر ذیلی طبقات پائے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ طبقات اور ذیلی طبقات کی حقیقی آبادی کے تعین کے لئے مردم شماری کے سوالنامہ میں تبدیلی ضروری ہے۔ کانگریس قائدین نے کہاکہ اگر کسی ایک طبقہ کی حقیقی آبادی کا تعین نہیں کیا گیا اور اُن کی پسماندگی کا جائزہ لئے بغیر مردم شماری بے فیض ہے۔ موجودہ طریقہ کار سے انتہائی پسماندہ اور نظرانداز کئے گئے طبقات کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ تعلیم، روزگار، فلاحی اسکیمات اور سماجی انصاف جیسے شعبہ جات میں ناانصافی کا اندیشہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مردم شماری کے سوالنامہ میں پسماندہ طبقات کے زمرہ کی عدم شمولیت سے ملک میں او بی سی کی حقیقی آبادی کا تعین نہ ہوپائے گا۔ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے تعین کے ساتھ ساتھ پسماندہ طبقات کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا بھی تعین ہونا چاہئے۔ کانگریس قائدین نے مکتوب کے ساتھ بہار کے طبقاتی سروے 2022ء اور تلنگانہ میں 2024ء کے طبقاتی سروے میں تعین کئے گئے طبقات کی فہرست روانہ کی گئی۔V/1