مرکزی بجٹ مخالف غریب عوام بجٹ: ہریش راؤ۔ طب ، تعلیم، انفرااسٹرکچر ، زراعت جیسے اہم شعبے نظرانداز

   

حیدرآباد۔ یکم ؍ فروری، ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے مرکزی بجٹ کو مخالف غریب عوام بجٹ قرار دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ضامن روزگار اسکیم اور غریب عوام سے متعلق فوڈ سیکوریٹی پروگرام کا تقریباً 30 فیصد بجٹ گھٹادیا گیا ہے۔ بیج اور کھاد پر دی جانے والی سبسیڈی میں کمی کرتے ہوئے کسانوں کے مالی بوجھ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے ساتھ ہمیشہ کی طرح ناانصافی کی گئی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے کئی تجاویز روانہ کرنے کے باوجود ایک بھی تجویز کو اہمیت نہیں دی گئی اور تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست تلنگانہ کی کسی بھی طرح مدد نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں جہاں غریب عوام کو نظرانداز کیا گیا ہے وہیں کارپوریٹ اداروں کی خوب آؤ بھگت کی گئی ہے۔ بی جے پی کے دور حکومت بالخصوص مودی کے راج میں تاریخ میں سب سے زیادہ قرض حاصل کیا گیا ہے۔ آزادی کے بعد سے 14 وزرائے اعظم نے ملک کیلئے 56 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا تھا۔ مودی نے اپنے 8 سالہ دور حکومت میں ایک لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ جاریہ سال ملک کو مزید مقروض بنانے کا منصوبہ تیار کرنا بدبختانہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور طب جیسے اہم شعبوں کو مرکزی حکومت نے پوری طرح فراموش کردیا ہے۔ آندھرا پردیش تقسیم ریاست میں تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ کی حوصلہ افزائی کرنے کا مرکز سے مطالبہ کیا گیا جس پر بجٹ میں کوئی ردعمل کا بھی اظہار نہیں کیا گیا۔ کسی بھی شعبہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا یہ دیوالیہ بجٹ ہونے کا ہریش راؤ نے دعویٰ کیا۔ن