مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کیلئے مودی اور کے سی آر ذمہ دار

   

کانگریس ارکان پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔یکم؍ فروری، ( سیاست نیوز) کانگریس ارکان پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے مرکزی بجٹ کو تلنگانہ کیلئے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ نرملا سیتا رامن کا بجٹ مخالف غریب اور موافق کارپوریٹ سیکٹر ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ بجٹ تقریر میں تلنگانہ کیلئے کوئی اہم اعلانات نہیں کئے گئے۔ وزیر فینانس نے آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے تحت کئے گئے وعدوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد یہ 10 واں مرکزی بجٹ تھا لیکن مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں دیئے گئے تیقنات میں ایک پر بھی عمل نہیں کیا ہے۔ وزیر فینانس نے 58 صفحات پر مشتمل اپنی تقریر میں صرف ایک مرتبہ تلنگانہ کا ذکر کیا اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ملت ریسرچ حیدرآباد کو تعاون کا یقین دلایا لیکن فنڈز کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ تلنگانہ سے بجٹ میں ناانصافی کیلئے کے سی آر برابر کے ذمہ دار ہیں جو مرکزی حکومت پردباؤ بنانے میں ناکام رہے۔ کے سی آر نے ابتداء میں مودی بھکت کا رول ادا کیا اور اب فرضی مخالفت کا اظہار کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی گئی۔ ارکان پارلیمنٹ نے تلنگانہ کے بی جے پی ارکان پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ بجٹ میں ناانصافی پر تلنگانہ عوام سے معذرت خواہی کریں۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں قاضی پیٹ ریلوے کوچ فیکٹری، بیارم اسٹیل پلانٹ، گریجن یونیورسٹی جیسے تیقنات کو شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی بجٹ میں ناانصافیوں کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھائے گی۔ر