مختلف ذرائع سے خزانے میں 48,790 کروڑ جمع ۔ 45,320 کروڑ کا خرچ
ماضی میں محصلہ قرض پر 6ہزار کروڑ روپئے سود ادا کیا ، سی اے جی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اگسٹ ( سیاست نیوز ) مالیاتی سال 2024-25 کے پہلے سہ ماہی کے دوران مرکز سے گرانٹ ان ریڈ کے تحت تلنگانہ کو ایک روپیہ بھی حاصل نہیں ہوا ہے ۔ ریاستی حکومت نے آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ( سی اے جی ) کو پیش کی ہے ۔ حکومت نے بتایا کہ اپریل ، مئی اور جون تین مہینوں میں مرکز سے ملنے والی گرانٹ صفر ہے ۔ حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ اس مالی سال میں تلنگانہ کو مرکز سے 21,636 کروڑ روپئے گرانٹ ان ایڈ کی شکل میں حاصل ہونگے ہر ماہ اوسطً 1800 کروڑ روپئے تلنگانہ کو ملنا چاہئے تاہم ہنوز ایک روپیہ بھی نہیں ملا ہے ۔ دریں اثناء ان تین ماہ میں مختلف شکلوں میں ریاستی خزانے میں 48,790 کروڑ روپئے جمع ہوئے ہیں جس میں جی ایس ٹی ، اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن سیل ٹیکس کے قرض بھی شامل ہے ۔ حکومت کو ہر ماہ 5 ہزار کروڑ روپئے تک قرض حاصل کرنے کی گنجائش ہے تاہم حکومت نے اس سے کم قرض لیا ہے ۔ ہر ماہ ایک ہزار کروڑ روپئے قرض کم کیا گیا ۔ جملہ آمدنی میں ٹیکس کے ذریعہ 34,609 کروڑ روپئے وصول ہوئے غیر ٹیکس آمدنی 1000 کروڑ روپئے ۔ گزشتہ مالیاتی سال جون تک ٹیکس آمدنی 31 ہزار کروڑ روپئے تھی ۔ جاریہ سال اس آمدنی میں 3600 کروڑ کا اضافہ ہوا ہے ۔ مالیاتی سال 2024-25 کے پہلے تین ماہ میں سب سے زیادہ 12,536 کروڑ روپئے جی ایس ٹی کے ذریعہ وصول ہوئے جبکہ 8202 کروڑ روپئے سیلس ٹیکس کی شکل میں ملے ۔ جون کی بہ نسبت ماہ اپریل میںٹیکس ریونیو میں کسی حد تک اضافہ ہوا تھا ۔ ٹیکس کی شکل میں سرکاری خزانے کو اپریل میں 11,464 کروڑ وصول ہوئے لیکن مئی میں یہ رقم گھٹ کر 10,954 کروڑ روپئے ہی رہی ۔ مارچ میں 12,190 کروڑ روپئے جمع ہوئے ۔ آر بی آئی سے 13,171 کروڑ روپئے قرض لیا گیا ۔ اس طرح سرکاری خزانے میں 48,790 کروڑ روپئے جمع ہوئے جس میں 45,320 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ ایکسائیز ٹیکس کی شکل میں 4785 کروڑ روپئے اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کے ذریعہ 3449 کروڑ روپئے اور مرکزی ٹیکس کے حصے کے طور پر 3635 کروڑ روپئے سرکاری خزانے میں پہونچے ہیں ۔ مزید 1998 کروڑ روپئے دیگر ٹیکسوں کی شکل میں آئے ہیں ۔ جون تک پچھلے قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے تقریباً 6 ہزار کروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں ۔ سی اے جی کو رپورٹ میں حکومت نے کہا ہے کہ پہلے تین مہینوں میں ملازمین کی تنخواہوں پر 11,026 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ حکومت نے سرمایہ کاری کے تحت 6,058 کروڑ روپئے خرچ کئے ۔ رواں مالیاتی سال کے پہلے تین مہینوں میں بنیادی خسارہ 7237 کروڑ روپئے تھا جبکہ مالیاتی خسارہ 13 ہزار کروڑ روپئے ریکارڈ کیا گیا ۔ حکومت کو 3652 کروڑ روپئے کا ریونیو خسارہ ہوا ہے ۔ 2