خودکشی کرنے والے طلبہ کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپئے کی مالی امداد دی جائے
حیدرآباد ۔ 25 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ سابق ایم ایل سی کے کویتا نے مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کا استعفیٰ NEET کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے اتنے بڑے بحران کا مکمل حل ہرگز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ استعفیٰ مرکزی حکومت اور وزارت کی ناکامی کا اعتراف ہوسکتا ہے لیکن اس سے متاثرہ لاکھوں طلبہ کو انصاف نہیں ملا ہے۔ کویتا نے کہا کہ حقیقی احتساب تبھی ممکن ہے جب تعلیمی نظام اور امتحانی اداروں میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں۔ مرکزی امتحانی نظام میں شفافیت لانے کیلئے کویتا نے کہا کہ نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کی موجودہ ساخت ناکام ہوچکی ہے۔ اسے یونین پبلک سرویس کمیشن کی طرز پر مکمل قانونی اور دستوری خودمختاری دی جائے تاکہ سیاسی مداخلت ختم ہوسکے۔ مستقبل میں کسی بھی قسم کے پیپر لیکس کو روکنے کیلئے قومی سطح پر انتہائی سخت قوانین وضع کئے جائیں تاکہ مجرموں کو سخت ترین سزائیں مل سکیں۔ تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ نے پیپر لیک کے باعث ذہنی تناؤ کا شکار ہوکر خودکشی کرنے والے ہر طالب علم کے لواحقین کو ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ اور مدد فراہم کی جائے۔ 20 جولائی کو دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر بے رحمانہ لاٹھی چارج اور تشدد کے ذمہ دار دہلی پولیس کے عہدیداروں آر اے ایف کے اہلکاروں اور دیگر سرکاری ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے کم کچھ بھی کرنا صرف حکومت کی طرف سے ایک ڈیمج کنٹرول کی کوشش کہلائے گا لیکن یہ طلبہ کے ساتھ حقیقی انصاف نہیں ہوسکتا۔H/2