مرکز نے تلنگانہ کے بشمول 13 ریاستوں میں برقی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی

   

1380 کروڑ بقایاجات کے ساتھ تلنگانہ سرفہرست ، ریاست میں برقی کٹوتی شروع ہونے کا قوی امکان
حیدرآباد /19 اگست ( سیاست نیوز ) مرکزی حکومت نے تلنگانہ پر کھلے بازار میں برقی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی ہے ۔ پابندی کا اطلاق جمعہ 19 اگست کی صبح سے شروع ہوگیا ہے۔ یہ پابندی تلنگانہ اور آندھراپردیش کے بشمول 13 ریاستوں پر لگائی گئی ہے ۔ اس معاملے میںپاور سسٹم آپریشنس کارپوریشن لمیٹیڈ (POSECO) انڈین انرجی ایکسچینج لمیٹیڈ (IEX) پاور ایسکچینج انڈیا لمیٹیڈ (PXIL) اور ہندوستان پاور ایکسچینج لمیٹیڈ (HPX) کو ہدایتیں جاری کردی گئی ہیں ۔ پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا ۔ یہ پابندیاں دونوں تلگو ریاستوں کے علاوہ مہاراشٹرا ، مدھیہ پردیش ، کرناٹک ، منی پور ، میزورم ، تملناڈو ، راجستھان ، چھتیس گھڑ ، بہار ، جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر میں 27 تقسیم کار کمپنیوں ( ڈسکام ) پر ہوتا ہے ۔ مرکزی حکومت کے حسابات کے مطابق متعلقہ ڈسکام پر ملک بھر کے جینکوز پر 5 ہزار کروڑ روپئے کے بقایاجات ہیں ۔ ان میں تلنگانہ سرفہرست ہے جس پر 1380 کروڑ روپئے کے بقایاجات ہیں ۔ تاملناڈو 924 کروڑ ، راجستھان 500 کروڑ جموں و کشمیر 434 کروڑ ، آندھراپردیش 412 کروڑ ، مہاراشٹرا 381 کروڑ روپئے ، چھتیس گڑھ 274 کروڑ ، مدھیہ پردیش 230 کروڑ جھارکھنڈ 214 کروڑ بہار پر 172 کروڑ روپئے کے بقایاجات ہیں ۔ مرکز نے برقی بقایاجات کی مقررہ وقت میں ادائیگی کو یقینی بنانے اور ڈسکامس کو کنٹرول کرنے کیلئے ادائیگی کی مدت ختم ہوجانے پر 6 ماہ قبل سرچارج اسکیم متعارف کرائی تھی ۔ جینکو کی جانب سے بلز کی اجرائی کے اندرون ڈھائی ماہ بقایاجات کی عدم ادائیگی پر ہر ماہ 0.5 فیصد سرچارج وصول کرنے کی تجویز شامل تھی ۔ ساتھ ہی ادائیگی نہ ہونے پر جینکو کو برقی سربراہی کاٹ دینے کے اختیارات بھی تھے ۔ قواعد میں ڈسکام اور جینکوز کے بقایاجات کی ادائیگی کے اقساط کی بھی تجویز شامل تھی ۔ اقساط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر (دیرینہ فیس ) وصول کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا ۔ شمسی اور ہوا سے برقی پیدا کرنے والوں کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ کرنے کی شکایتیں وصول ہونے کے بعد یہ قواعد تیار کئے گئے ہیں ۔ ساتھ ہی قطعی اقدام کے طور پر برقی کے تبادلے میں خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ بقایاجات کی ادائیگی میں ڈسکام کو برقی کنٹرول کرنے کا ختیار ریجنل لوڈ ڈسپیج سنٹر (RLD) کو دیا گیا مرکزی حکومت کے اس تازہ فیصلہ سے ریاست تلنگانہ میں برقی سربراہی نظام کو شدید جھٹکا لگنے کا امکان ہے ۔ تلنگانہ میں جمعرات کی صبح 7.58 بجے 12,144 میگاواٹ برقی طلب ریکارڈ کی گئی ۔ گذشتہ سال اسی وقت کے مقابلے میں یہ طلب 3481 میگاواٹ زیادہ تھی ۔ اس بات کا امکان ہے کہ جمعہ سے ریاست میں طلب کے مطابق برقی میسر نہیں ہوگی ۔ محکمہ برقی کے پاس برقی کٹوتی کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ برقی کمپنیوں کی جانب سے برقی کٹوتی کے اشارے دیتے ہوئے صارفین سے تعاون کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ جس سے زرعی صارفین کے علاوہ منڈل اور دیہاتوں میں برقی کٹوتی کا سلسلہ شروع ہونے کے قوی امکانات پیدا ہوگئے ہیں ۔ فی الحال ریاست کے تمام آبپاشی پراجکٹس لبریز ہونے کی وجہ سے یومیہ 46 ملین یونٹس تک برقی پیدا ہو رہی ہے ۔ اس کے علاوہ جینکو کے تھرمل سنٹرس میں 61 ملین یونٹس برقی تیار ہو رہی ہے ۔ مزید 70 ملین یونٹ برقی این ٹی پی سی ، چھتیس گڑھ اور دیگر پاور کمپنیوں سے حاصل ہوگی جس کا پہلے ہی معاہدہ کیا گیا ہے ۔ ریاست میں اوسطاً 200 ملین یونٹ ( 15 فیصد ) تک خریدی جاتی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے گذشتہ 2 دن کے دوران کھلے بازار سے 580 میگاواٹ اور 1984 میگاواٹ برقی خریدی ہے ۔ برقی کمپنیاں برقی ڈیمانڈ کے موقع پر خرید کر اور ڈیمانڈ نہ ہونے کے موقع پر اپنے پاس موجود فاضل برقی کو فروخت کرتے ہوئے زیادہ منافع کما رہی ہیں ۔ مرکز کے تازہ ترین فیصلے سے برقی کی خرید و فروخت مکمل طور پر رک گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے برقی کی زیادہ طلب کے موقع پر برقی کٹوتی کی جاتی ہے اور ڈیمانڈ نہ رہنے کے دوران پیداوار کم کی جاتی ہے ۔ ن