حیدرآباد۔26۔اکٹوبر(سیاست نیوز) مسجد بی صاحبہ پنجہ گٹہ کی انتظامی کمیٹی کو تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں ایسے نازک مرحلہ پر راست انتظامیہ میں لے لیا جبکہ مسجد کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے کرایہ داروں کے خلاف دائر مقدمہ میں حاصل کامیابی کے بعد انہیں تخلیہ کروانے کے اقدامات کرنے تھے لیکن وقف بورڈ نے مسجد کے امور کو راست انتظامیہ میں لینے کے اقدامات کے ذریعہ مقدمہ میں شکست کا سامنا کرنے والوںکو ہائی کورٹ میں ٹریبونل کے فیصلہ کے خلاف درخواست داخل کرنے کا موقع فراہم کردیا ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں موجود عہدیداروں کے آمرانہ رویہ اور حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کئے جانے والے فیصلوں کی کئی ایک مثالیں ملتی ہیں لیکن پنجہ گٹہ علاقہ میں لب سڑک واقع مسجد بی صاحبہ کے معاملہ میں ریاستی وقف بور ڈکے عہدیداروں نے من مانی کرتے ہوئے مسجد کے انتظامی امور ایسے نازک وقت میں اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا ہے جب مسجد کمیٹی بڑی کامیابی حاصل کرچکی تھی۔ مسجد کمیٹی کو حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد کئے جانے والے اس فیصلہ سے بورڈ کے عہدیداروں کے رویہ پر شکوکو و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔ وقف بورڈ کی موجودگی میں چیف اکزیکیٹیو آفیسر کو اس بات کا اختیار حاصل نہیں ہوتا کہ وہ کسی متولی یا انتظامی کمیٹی کو بورڈ کی منظوری کے بغیر معطل کرے لیکن مسجد بی صاحبہ کے معاملہ میں وقف بورڈ کے عہدیداروں نے اپنی ہی غلطی کی سزاء مسجد کی انتظامی کمیٹی کو دینے کے علاوہ مسجدکے امور کو راست نگرانی میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجود بورڈ کی تشکیل سے قبل اس مسجد کی انتظامی کمیٹی کی معیاد کی توسیع کے سلسلہ میں جاری کئے جانے والے احکامات میں ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ’’ بورڈ کی منظوری ‘‘ کی شرط عائد کرتے ہوئے احکام جاری کئے تھے جب کہ اس طرح کے احکامات کی اجرائی کی کوئی گنجائش نہیں تھی کیونکہ قوانین وقف کے مطابق اگر کسی انتظامی کمیٹی کی معیاد میںتوسیع میں کسی بھی طرح کی کوئی تاخیر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کمیٹی کی ازخود توسیع تصور کی جاتی ہے لیکن بورڈ کے عہدیداروں نے ان مشروط احکامات کی اجرائی کے ذریعہ عدالتی رسہ کشی کی راہ ہموار کی جس کے نتیجہ میں فریق ثانی نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے بورڈ کے ان احکامات کو چیالنج کیا جس پر عدالت نے وقف بورڈ کو اپنی غلطی سدھارنے کی ہدایت دی لیکن چیف اکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے مسجد کی انتظامی کمیٹی کو نازک وقت میں جب مقدمات کی یکسوئی ہونے جا رہی تھی برخواست کرتے ہوئے اسے راست انتظامیہ لینے کے احکامات جاری کردیئے ۔تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی موجودگی میں چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے مسجد کی انتظامی کمیٹی کو بورڈ کی منظوری کے بغیر برخواست کئے جانے کے فیصلہ پر مختلف گوشوں سے حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ اس طرح کے من مانی فیصلوں سے بورڈ کا وقار متاثر ہورہا ہے اور خلاف قانون فیصلوں کے سبب بورڈ کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔م