مسلمانوں اور بی سی طبقات کیلئے دلت بندھو طرز کی اسکیم کا مطالبہ: اکبراویسی

,

   

اراضیات کے معاملہ میں مسلمانوں کو نقصان، اوقافی دھاندلیوں کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات ، اسمبلی میں مطالبات زر پر مباحث
حیدرآباد 9 فروری (سیاست نیوز) مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیاکہ مسلمانوں اور بی سی طبقات کیلئے دلت بندھو کی طرز پر نئی اسکیم کا اعلان کریں۔ مسلمانوں اور بی سی طبقات کو بھلے ہی 10 لاکھ نہ دیئے جائیں لیکن کم از کم 5 لاکھ روپئے امداد کے ساتھ بی سی بندھو اور اقلیت بندھو اسکیم متعارف کی جائے۔ اسمبلی میں 12 مختلف محکمہ جات بشمول اقلیتی بہبود کے مطالبات زر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر اویسی نے کہاکہ آزادی کے بعد اراضیات میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہوا ہے۔ مسلمان جو سینکڑوں ہزاروں ایکر اراضی کے مالک تھے، راتوں رات نئے قوانین کے تحت بے زمین کردیئے گئے ۔ انعام ابالیشن ایکٹ، جاگیر ابالیشن ایکٹ، اربن لینڈ سیلنگ، اگریکلچرل سیلنگ ؤ دیگر قوانین کے ذریعہ مسلمانوں کو اراضیات سے محروم کردیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اوقافی جائیدادیں تلنگانہ میں تباہ ہورہی ہیں لیکن اُن کے تحفظ کی کسی کو فکر نہیں۔ اکبر اویسی نے کہاکہ کئی اوقافی جائیدادوں کا تنازعہ ریونیو محکمہ سے ہے۔ ریونیو ریکارڈ میں کئی اوقافی اراضیات کو سرکاری درج کیا گیا ۔ اُنھوں نے وقف و ریونیو ڈپارٹمنٹ تنازعات کی یکسوئی کا مطالبہ کیا اور کہاکہ حکومت نے جن اوقافی اراضیات کو بڑے کمپنیوں یا اداروں کے حوالہ کیا ہے، کم از کم اُن کا معاوضہ بورڈ کو دیا جائے۔ اُنھوں نے پرانے شہر میں رجسٹریشن آفس کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہاکہ حکومت نے بنڈلہ گوڑہ میں رجسٹریشن آفس قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اکبراویسی نے کہاکہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات کیلئے مختص کردہ 17 ہزار کروڑ میں 1200 کروڑ اقامتی اسکول سوسائٹی اور 450 کروڑ شادی مبارک کیلئے مختص کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی لون کی اسکیم 5 سال سے بند ہے۔ جاریہ سال 2 لاکھ 16 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جن کی یکسوئی کیلئے 2 ہزار کروڑ کی ضرورت ہوگی۔ حکومت نے سبسیڈی قرض اسکیم کیلئے 120 کروڑ کی منظوری دی ہے۔ اگر مزید 200 کروڑ جاری کئے جاتے ہیں تو کم از کم 50 ہزار افراد کو قرض حاصل ہوگا۔ اُنھوں نے گزشتہ 2 برسوں میں عدالتوں میں وقف بورڈ کی جانب سے مقدمات میں شکست کا جائزہ لینے کی تجویز پیش کی۔ وقف بورڈ کی بے قاعدگیوں کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا تین سال قبل اعلان کیا گیا تھا لیکن آج تک تحقیقات مکمل نہیں ہوئی اور نہ حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی۔ اکبراویسی نے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات میں تیزی لانے اور وقف اراضیات کے لٹیروں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے ہر ضلع میں کلکٹر کی نگرانی میں وقف پروٹیکشن سیل سے متعلق سرکاری احکامات پر عمل آوری کی مانگ کی۔ وقف بورڈ کی بدعنوانیوں کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اکبراویسی نے کہاکہ وقف بورڈ ملازمین کی تنخواہیں سرکاری ملازمین سے زیادہ ہیں۔ بے قاعدگیوں کو روکنے ایک بھی ایماندار عہدیدار وقف بورڈ پر تعیناتی کیلئے دستیاب نہیں ہے۔ ر