نئی دہلی: دہلی کے جہانگیر پوری سمیت ملک کی معتدد ریاستوں میں بغیر کسی عدالتی احکام کے مسلمانوں کی املاک پر غیر قانونی بلڈوزرچلانے کے خلاف جمعیۃ علمائے ہند (مولانا ارشد مدنی) کی دائر کردہ عرضی پر کل 9مئی کو سماعت ہوگی۔یہ اطلاع آج یہاں جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔ ریلیز کے مطابق اس سے قبل کی سماعت پرسپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت سمیت ایسی تمام ریاستوں سے جواب طلب کیا تھا جہاں حالیہ دنوں میں بغیر کسی عدالتی احکام کے مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر چلایا گیا تھا، عدالت نے دہلی کی جہانگیر پوری میں کی گئی انہدامی کارروائی پر حکم التوا برقرار رکھتے ہوئے عدالت کے حکم التوا کے باوجود دیڑھ گھنٹے تک چلنے والی انہدامی کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ مئیر اور میونسپل کمشنر سے جواب طلب کریں گے ۔واضح رہے کہ جمعیۃ علمائے ہند نے مولانا سید ارشدمدنی کی ہدایت پر جہانگیر پوری، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، اوراتراکھنڈ ریاستوں میں مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے بلڈوز ر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔جس کی سماعت گزشتہ ماہ کے اخیر میں ہوئی تھی۔کل اس مقد مہ کی سماعت سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ناگیشور راؤ اور جسٹس گوئی کے اجلاس میں عمل میں آئے گی، جمعیۃ العلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل بحث کریں گے۔ جمعیۃ العلما ء ہند کی جانب سے 60صفحات پر مشتمل حلفنامہ داخل کیا گیا ہے جس میں کھرگون کے مسلمانوں کی املاک کی تفصیلات ہیں جسے غیر قانونی طریقے سے منہدم کیا گیا تھا۔ حلف نامہ میں ان تمام لوگوں کی تفصیلات ہیں جن کی املاک پر بغیر نوٹس کے بلڈوزرچلایا گیا اسی طرح ان لوگوں کی بھی تفصیلات ہیں جنہیں کئی ماہ قبل نوٹس دیا گیا اور انہیں اپنی با ت رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن میں دہلی کے جہانگیر پوری میں مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر چلانے کا بھی ذکر ہے اور عدالت کے حکم التوا کے باوجود مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر چلانے کے خلاف انتظامیہ پر کارروائی کرنے کی گذارش کی گئی ہے۔واضح رہے کہ دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر چلانے کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے جس میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی ہیں، ایڈوکیٹ صارم نوید،ایڈوکیٹ نظام الدین پاشااورایڈوکیٹ شاہدندیم نے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے مشورہ سے پٹیشن تیار کی ہے جسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کبیر ڈکشت نے داخل کیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ بھی دیگر فریقوں نے مداخلت کی عرضداشت داخل کی ہے جس پر عدالت یکجا سماعت کریگی۔