نئی دہلی : پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں چندریان 3 پر بحث کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ رمیش بڈھوڑی کے ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی اور ان کے مذہب کے خلاف توہین آمیز رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے مطالبہ کیا کہ اس رکن پارلیمنٹ کو فوراً برخاست کیا جائے ۔گزشتہ رات یہاں آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے دفتر میں منعقدہ ایک مختصر سی میٹنگ میں انہوں نے کہاکہ اب تک فرقہ پرست عناصر دبی زبان سے اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرتے تھے لیکن اب جمہوریت کے مندر میں ایک رکن پارلیمنٹ اس طرح کے توہین آمیز استعمال کرتا ہے اور اس کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کئی گئی ہے بلکہ انتباہ جاری کیا ہے اور نوٹس جاری کرکے اس سے جواب طلب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب کہ اس سے بہت سے چھوٹے دیگر معاملات میں اسپیکر نے فوراً کارروائی کرکے معطل کردیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہندوستانی جمہوریت، ہندوستانی آئین اور ہندوستانی پارلیمنٹ پر ایک بدنما داغ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ خراب ہوئی ہے اور بی جے پی رکن پارلیمان نے صرف دانش علی کی توہین نہیں کی ہے بلکہ ملک کے ہر ایک مسلمان کی توہین کی ہے اور یہ معاملہ غیر پارلیمانی الفاظ کا نہیں ہے بلکہ ہیٹ اسپیچ کا ہے ۔انہوں نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکمراں طبقہ سے کسی وزیر کا کارروائی بیان تو دور مذمتی بیان تک نہیں آیا ہے ۔اترپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری بدر الدین قریشی نے کہاکہ جس طرح کنور دانش علی کے بارے میں رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیاہے اس سے نہ صرف دانش علی کی توہین ہوئی ہے بلکہ پورے مسلمانوں کی توہین ہوئی ہے اور اس کی ہر طبقہ کی طرف سے مخالفت کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پارلیمنٹ کے اسپیکر بڈھوڑی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے تو دانش علی کو استعفی دے دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی اقلیتوں کو آئندہ الیکشن میں اس توہین آمیز سلوک کا عملی جواب دینے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔