مسلمانوں کے بائیکاٹ کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

   

نئی دہلی: ہریانہ کے نوح میوات میں پیش آئے فرقہ وارانہ تصادم کے بعد مسلمانوں کے کھلے عام معاشی بائیکاٹ کی قرارداد کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ گڑگاؤں میں چند شدت پسند ہندو تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کا عہد، بلکہ حلف لیا گیاتھا۔ ممتاز وکیل کپل سبل نے اس معاملے کا ذکر کیا ۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ نے دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کے پولیس حکام کو حکم دیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی برادری کیخلاف نفرت انگیز تقریر نہ کی جائے یا تشدد یا املاک کو نقصان نہ پہنچے۔وشوا ہندو پریشد کی طرف سے قومی دارالحکومت کے علاقے میں احتجاجی ریالیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ رواں سال اپریل میں سپریم کورٹ نے زور دیا تھا کہ آئین ہندوستان کو ایک سیکولر ملک کے طور پر تصور کرتا ہے،جبکہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دیتا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات پر سخت کاروائی کی جائے اور شکایت درج ہونے کا انتظار کئے بغیر خاطیوں کے خلاف مذہب سے بالاتر ہوکر فوجداری مقدمات درج کرنا چاہئے۔ہریانہ میں میوات کے ضلع نوح میں 31 جولائی کو جنونی ہندوؤں کی طرف سے نکالی گئی یاتر ا پر سنگباری کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپیں پیش آئیں۔