مسلمان نیند کی آغوش میں‘ تقررات میں 4 فیصد تحفظات نظرانداز!

,

   

نظام آباد میں 67 میڈیکل نرسیس کا تقرر ۔ بی سی ای زمرہ ہی برخاست ۔ عہدیداروں کا جواب دینے سے عمدا ًگریز

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 3 جنوری :ریاستی حکومت کے عہدیدارتوجہ ہٹا کر لوٹنے والے ڈکیتوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو الجھا کر ان کی جائیدادوں کو بھی ہڑپنے لگے ہیں۔ حکومت کے مسلمانوں کے متعلق بے پرواہ رویہ اور حکومت میں شامل مسلم قائدین کی عدم توجہی کے سبب ضلعی سطح پر مختلف محکمہ جات کے تقررات میں 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل نہ کرکے انہیں سرکاری سطح پر نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ نظام آباد میں ضلع میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر کی جانب سے 67 نرسوں تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا اور محفوظ زمروں کے علاوہ عام زمرہ کے تحت تقررات کا اعلان کیا گیا تھا ۔ محکمہ صحت سے جاری کردہ اعلامیہ میں ز مرہ کے اعتبار سے تحفظات کی تفصیلات فراہم کی گئی تھی اور اعلامیہ کی اجرائی کے بعد درخواستیں داخل کرنے والوں نے اپنے اسنادات بشمول محفوظ زمرہ کے صداقتنامہ جات داخل کئے اور سال 2022 جولائی و اکٹوبر میں محکمہ صحت سے جاری عبوری فہرست میں BC(E) زمرہ کے امیدواروں کے نام شامل کئے گئے تھے اور یہ تاثر دیا گیا کہ نظام آباد میں نرسوں کے تقرر کیلئے اعلامیہ کے مطابق ان کے تقررات کا عمل مکمل کیا جائے گا اور 4 فیصد مسلم تحفظات پر بھی عمل کو یقینی بنایا جائے گا لیکن31ڈسمبر 2022کو منتخبہ امیدواروں کی فہرست جو میرٹ کی بنیاد پر جاری کرنے کا دعویٰ کیا جا رہاہے اس میں جملہ 64امیدواروں کے تقرر کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اور 3 جائیدادوں کو جسمانی معذورین کیلئے محفوظ رکھا گیا ہے جبکہ مابقی 64 امیدواروں کی جو فہرست جاری کی گئی اس میں کوئی بھی مسلم امیدوار BC(E) زمرہ کی میرٹ لسٹ میں شامل نہیں ہے اور نہ ہی اس کے تقرر کی کوئی تفصیل موجود ہے۔روسٹرکے مطابق 19ویں اور 44 ویں مقام BC(E) امیدوار کاتقرر کیا جانا چاہئے لیکن تقررات میں بی سی (ای) طبقہ کو مکمل نظرانداز کیا جاچکا ہے۔ حکومت سے 4 فیصد تحفظات کی برقراری اور اس پر عمل کیلئے متعدد مرتبہ یقین دہانی کے علاوہ اس میں اضافہ کا اعلان کیا جاتا رہا ہے لیکن اقلیتی غالب آبادی والے ضلع نظام آباد میں محکمہ صحت کی اس لاپرواہی نے اب تک مختلف محکمہ جات کی جانب سے ضلع واری سطح پر تقررات کو مشتبہ بنادیا ہے کیونکہ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ضلعی عہدیداروں نے منصوبہ بند انداز میں بی سی(ای) زمرہ کو برخواست کرنے کی حکمت عملی تیار کرکے مسلم امیدواروں کے تقرر کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں اور انہیں ابتدائی و عبوری فہرست میں شامل کرنے کے بعد میرٹ کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔ تقررات کیلئے درخواست داخل کرنے والے امیدوارو ںکو سرکاری سطح پر مایوس کرنے کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ریاست میں کسی کو جوابدہی کا احساس نہیں ہے بلکہ ضلعی عہدیدار بھی من مانی کرکے نہ صرف حکومت بلکہ درخواست گذاروں کوبھی گمراہ کرکے قانون اور سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ حکومت نے 4 فیصد تحفظات میں ایک فیصد کی کمی کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دے کر ان افراد کے خلاف کاروائی کا اعلان کیا تھا جنہوں نے یہ اطلاعات پھیلائی ہیں لیکن ان کے خلاف تو کوئی کاروائی نہیں ہوئی بلکہ اب محکمہ صحت کی جانب سے تقررات میں ایک فیصد کمی نہیں بلکہ بی سی (ای) زمرہ کو ہی غائب کردیا گیا ہے۔ محکمہ کے عہدیداروں بالخصوص نظام آباد کے ڈی ایم اینڈ ایچ او ضلع میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر سے اس سلسلہ میں سوال کرتے ہی انہوں نے فون منقطع کردیا اور دوبارہ فون کرنے پر انہوں نے میٹنگ میں ہونے کا بہانہ کرکے فون کاٹ دیا جبکہ پہلے فون کال پر وہ اطمینان سے بات کر رہے تھے لیکن جب نرسوں کے تقررات کے معاملہ میں بی سی (ای) زمرہ کو نظر انداز کرنے پر استفسار کیا گیا تو انہوں نے فون کاٹ دیا اور اگلے ہی مرحلہ میں میٹنگ میں مصروف ہوگئے۔ محکمہ صحت کی اس سنگین کوتاہی میں ریاستی سطح کے عہدیداروں سے بات کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی کیونکہ کوئی عہدیدار فون اٹھانے تیار نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ ضلعی عہدیداروں کے علاوہ ریاستی عہدیدار بھی اس کوتاہی کیلئے برابر کے ذمہ دار ہیں کیونکہ تقررات میں حکومت سے جاری احکامات اور رہنمایانہ خطوط و قواعد کے مطابق ہی تقررات کرنے ہوتے ہیں اور ان میں کسی طرح کی کوتاہی ناقابل معافی جرم ہوتی ہے لیکن ضلع نظام آباد کی میرٹ لسٹ میں بی سی(ای) امیدواروں کو ہی غائب کردیا گیا ہے۔