مسلم رائے دہندو ںکو تین طریقوں سےحق رائے دہی چھیننے کی کوشش

   

نتن بشٹ
ہندوستان میں ایس آئی آر کے ذریعہ ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا کردی گئی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ایس آئی آر کے نام پر ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلم رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ اس میںکوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور دیکھا جائے تو فی الوقت دنیا کی یہ سب سے بڑی جمہوریت خطرہ میں ہے جس کا اندازہ اس بات لگایا جاسکتا ہے کہ مذہب کی بنیاد پرلوگوں کو حق رائے دہی چھیننے یا انہیں حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس طرح کی کوشش ملک کی مختلف ریاستوں میں تین طریقوں سے کی جارہی ہیں ۔ پہلا طریقہ فارم 7 ، دوسرا طریقہ حد بندی اور تیسرا طریقہ رائے دہندوں کو دبانا ہے ۔
پہلا طریقہ : فارم 7 : اس طریقہ کو سمجھنے کیلئے ہم اور آپ کو دی کوئنٹ کی دو رپورٹس پر غور کرنا چاہیئے ۔ میرے ساتھی ہمانشی داہیا کی رپورٹ کے مطابق راجستھان کے الوار میں فارم 7 استعمال کرتے ہوئے ہزاروں مسلم رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کی کوش کی گئی ۔ فارم 7ایک ایسا فارم ہے جس کے ذریعہ آپ یا کوئی بھی کسی بھی رائے دہندے پر سوال اٹھاسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر الوار میں یہ فارم مسلم رائے دہندو ں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا گیا ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اکثر شکایات بی جے پی سے جڑے افراد نے درج کروائی ۔ اس طرح دی کوپنٹس کے ایشور نے ایک رپورٹ شائع کروائی جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ اترپردیش کے چتڈاولی میں ایک یوتھ لیول آفیسر ( بی ایل او) کو ایک نامعلوم لفافہ بھیجا گیا جس میں فہرست رائے دہندگان سے 7مسلمانو ں کے نام حذف کرنے کیلئے کہا گیا ، حد تو یہ ہیکہ کم از کم 6 بی ایل اوز کو مسلم رائے دہندوں کے نام حذف کرنے کیلئے مختلف فارمس دیئے گئے ، ان میں کچھ فارمس پوری طرح جعلی یا فرضی نکلے ۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہیکہ ان فارمس کو پُر کرنے کیلئے جن لوگوں کے ناموں کا استعمال کیا گیا ان لوگوں نے خود کوئنٹ کو بتایا کہ انہوں نے کسی کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کروائی ۔ مسلم رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے سے متعلق اس قسم کی رپورٹس مغربی بنگال ، گجرات اور آسام سے بھی موصول ہوئی ہیں ۔ یہاں سب سے بڑا سوال جیسا کہ الوار کی کہانی میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے کہ ووٹ چوری کی کھلے عام کوششوں کے باوجود الیکشن کمیشن نے اس کی تحقیقات میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ، حالانکہ الیکشن کمیشن کو اس قسم کی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مسلم رائے دہندوں کی شکایات کا ازالہ کرے لیکن الیکشن کمیشن اس طرح کے معاملات میں خاموشی اختیار کرتا جارہا ہے ۔
دوسرا طریقہ حد بندی : یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ دو ریاستوں آسام اور جموں و کشمیر میں حلقوں کی نئی حد بندی کا کام مکمل ہوگیا ہے اور ان دونوں مقامات پر حلقوں کی سرحدوں ( حدبندی) کا تعین کرنے کیلئے مختلف پیمانے استعمال کئے گئے ۔ آبادی کے پیمانہ یا معیار کے مطابق آسام کے ہر لوک سبھا میں 17.5 لاکھ رائے دہندے ہونے چاہیئے لیکن مسلم اکثریتی دھوبری حلقہ میں تقریباً 10لاکھ اضافی رائے ہندوں کے نام شامل کئے گئے ۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ دھوبری میںایک ووٹ کی قدر آسام کے دیگر لوک سبھا حلقوں کی بہ نسبت کم ہے لیکن یہ کہانی صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔
تیسرا طریقہ رائے دہندوں کو دبانا : عام انتخابات 2024 کے دوران اترپردیش کے پارلیمانی حلقہ سنبھل سے تعلق رکھنے والے بعض مسلم رائے دہندوں نے کوئنٹ کو بتایا کہ اپنے ووٹ کے استعمال میں انہیں پولیس ظلم کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس بات کی شکایات بھی موصول ہوئیں کہ کچھ مسلم اکثریتی علاقوں میں چند گھنٹوں تک پولنگ بوتھس بھی بند کردیئے گئے تھے ۔ چند ماہ بعد اترپردیش کے حلقہ اسمبلی کندارکی میں ضمنی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔ اس وقت یہ الزامات عائد کئے گئے کہ کئی ایک مسلم اکثریتی علاقوں کے رائے دہندوں کو دھمکیاں دئی گئیں یا انہیں حق رائے دہی کے استعمال سے روک دیا گیا ۔ اسکرال کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلم اکثریتی بوتھس پر رائے دہی کے اوسط یا فیصد میں بہت کمی دیکھی گئی ۔ بہرحال ہم نے آپ کو بتادیا ہے کہ کسی طرح مذکورہ تین طریقو ں سے بے شمار مسلمانوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا گیا ہے یا پھر ان کے ووٹوں کے اثر کو کم سے کم کیا جارہا ہے ۔ ان کی قدر و قیمت گھٹائی جارہی ہے ۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس ناانصافی ، اس ظلم و جبر اور دباؤ کے خلاف الیکشن کمیشن آخر کیا کررہا ہے ۔ ایسے میں ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن کمیشن غیر موثر ہے یا پھر وہ خود اس مسلم مخالف مہم میں ملوث ہیں ۔