واشنگٹن : 16 ستمبر (یو این آئی ) مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کے درمیان گوگل ڈیپ مائنڈ کی مصنوعی عمومی ذہانت کی حفاظتی ٹیم سے وابستہ محقق جوش اینگلز نے کمپنی سے استعفیٰ دے دیا اور مصنوعی ذہانت کے جائزے پر کام کرنے والے ادارے ایم ای ٹی آر میں شمولیت اختیار کر لی۔جوش اینگلز نے بتایا ہے کہ میں نے 3 ہفتے قبل گوگل ڈیپ مائنڈ سے علیحدگی اختیار کی ہے، میں کمپنی میں اپنے کام سے خوش تھا اور میں نے اینتھروپک اور اوپن اے آئی کی جانب سے آنے والی ملازمتوں کی پیشکش بھی مسترد کر دی تھیں، مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات نے مجھے اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں جوش اینگلز نے کہا ہے کہ مجھے خدشہ ہے کہ اگلے 5 سال کے دوران مصنوعی ذہانت کے نظام ’بے حد نقصان‘ کا سبب بن سکتے ہیں، مجھے اس خطرے کا درست امکان معلوم نہیں لیکن خطرہ اتنا زیادہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی حفاظت دنیا کا سب سے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔جوش اینگلز کا کہنا ہے کہ میری بنیادی تشویش خود کو مسلسل بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت ہے جس میں ایک نظام دوسرے اور زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام کو تیار یا بہتر بنا سکتا ہے، اگر ایسے نظام انسانی مقاصد سے ہم آہنگ نہ رہے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں انتہائی طاقت ور انٹیلیجنس تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن محققین ابھی یہ نہیں جانتے کہ ایسے نظاموں کو خود کو بہتر بنانے کی اجازت دینے سے پہلے انہیں مکمل طور پر محفوظ کیسے بنایا جائے۔جوش اینگلز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ تجربات میں مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملی بھگت، کمپنیوں کے نظام میں غیر مجاز رسائی، اپنی سرگرمیاں چھپانے اور انسانوں کو سماجی طور پر متاثر کرنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انفرادی واقعات لازماً تباہ کن نہیں ہیں تاہم یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام کس طرح کا رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اینگلز کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام وقت کے ساتھ انسانی مقاصد سے زیادہ ہم آہنگ ہونے کے بجائے کم ہم آہنگ دکھائی دے رہے ہیں۔