معذوری مجبوری نہیں ہوتی ، عزم و حوصلہ ہوتو ہر چیز ممکن ہے

   

دونوں ہاتھوں سے محروم 23 سالہ گریجویٹ شنکر، پاؤں سے لیاپ ٹیاب چلاتا ہے ۔ محنت مزدوری کرتا ہے
حیدرآباد /25 جولائی (سیاست نیوز ) معذوری مجبوری نہیں ہوتی یہ بات دونوں ہاتھوں سے محروم اس نوجوان نے ثابت کردی ۔اکثر معذور لوگ ہاتھوں سے محرومی کو مجبوری ظاہر کرکے بھیک مانگتے ہیں یا دیگر ارکان خاندان پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن ایک نوجوان اے شنکر نے اپنے عزم و حوصلے کو اپنے ہاتھ بنالئے برقی حادثہ کا شکار ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں سے محروم اس نوجوان نے اپنے پیروں کو اس قدر قابل بنایا کہ وہ ہاتھوں کی طرح ہر کام انجام دے سکے۔ عام طور پر ہاتھوں سے محروم افراد کو پیر سے چمچہ میں کھاتے پین پکڑ کر لکھتے دیکھا گیا ۔ لیکن یہ نوجوان اپنے پیروں سے عصری ٹکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔ تفصیلات کے بموجب اسکول میں دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے دوران برقی تار لگنے کے حادثہ میں اے شنکر دونوں ہاتھوں سے محروم ہوگیا ۔ ضلع منچریال کے نینیلا منڈل کا یہ طالب علم تیسری جماعت میں زیر تعلیم تھا ۔ اس وقت یہ حادثہ پیش آیا ۔ شنکر بچپن میں ہی والد کے سائے سے محروم ہوگیا ۔ والد کی موت کے بعد ماں نے مزدوری کرکے تین بیٹوں کی پرورش کی ہے ۔ چند لوگوں کی مدد سے شنکر دوبارہ اسکول جانا شروع کیا۔ پاوں سے لکھنا سیکھا ، اب یہ نوجوان 23 سال عمر میں تعلیم میں شاندار مظاہرہ کرکے جاریہ سال بی کام ڈگری کی تعلیم مکمل کرلی ۔ پیر سے وہ لیاپ ٹیاپ آپریٹ کرتا ہے ۔ تعلیم کے دوران جب بھی وقت ملتا پاؤں پر بھروسہ کرکے محنت مزدوری کرتے خاندان کی کفالت میں مدد کرتا ہے ۔ پودے لگاتا ‘ سائیکل چلاتا ہے ۔ مقابلوں میں حصہ لیتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں دوسروں سے کم نہ ہونے کا ثبوت دے رہا ہے ۔ دونوں ہاتھوں سے محروم نوجوان کی زندگی نوجوان کیلئے مشعل رہا ہے ۔ 2