خصوصی پوکسو عدالت کا فیصلہ ، 10 ہزار روپئے جرمانہ ، متاثرہ بچی کو 5 لاکھ روپئے کامعاوضہ
میدک ۔ 15 جولائی ۔ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) میدک ضلع کی خصوصی پوکسو عدالت نے ساڑھے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے ایک انتہائی سنگین مقدمہ میں ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، ساتھ ہی اس پر 10 ہزار روپئے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے متاثرہ بچی کو 5 لاکھ روپئے بطور متاثرین معاوضہ (وکٹم کمپنسیشن) ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ضلع کے ایس پی ڈی۔ وی۔ سرینواس راؤ آئی پی ایس نے بتایا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ 10 مارچ 2025 کو منوہرآباد پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع کلکل گاؤں میں پیش آیا تھا۔ ساڑھے تین سالہ بچی حسب معمول آنگن واڑی مرکز گئی تھی، لیکن کچھ دیر بعد لاپتہ ہوگئی۔ آنگن واڑی ٹیچر کی اطلاع پر اہل خانہ نے تلاش شروع کی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے پر بہار سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ تنا کمار بچی کو اُٹھا کر لے جاتا ہوا نظر آیا۔اہل خانہ نے گاؤں کے مضافات میں ایک تالاب کے کنارے سے بچی کی رونے کی آواز سنی۔ موقع پر پہنچنے پر ملزم فرار ہوگیا جبکہ بچی کو فوری طور پر بچا کر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔شکایت کی بنیاد پر اْس وقت کے سب انسپکٹر سبھاش گوڑ نے مقدمہ درج کیا۔ توپران کے ڈی ایس پیز وینکٹ ریڈی اور نریندر گوڑ نے سائنسی شواہد، طبی رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر مضبوط چارج شیٹ عدالت میں پیش کی۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل بالیا نے مؤثر دلائل پیش کیے جبکہ بھروسہ لیگل ایڈوائزر شویتا نے بچی کو عدالت میں بیان دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا۔ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد خصوصی پوکسو عدالت کی جج آر ایم سبحاوالی نے ملزم تنا کمار کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید اور 10 ہزار روپئے جرمانے کی سزا سنائی۔ایس پی نے بتایا کہ اس مقدمہ میں لائڑننگ آفیسر ایس آئی وٹھل، کانسٹبل کرشنا اور سی ڈی او مہی پال ریڈی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سرکاری وکیل بالیا، تفتیشی افسران، بھروسہ ٹیم، لائڑننگ آفیسر اور پولیس عملہ کو کامیاب پیروی پر مبارکباد دی۔ایس پی نے کہا کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم ناقابل برداشت ہیں اور ایسے مجرموں کے ساتھ قانون انتہائی سختی سے نمٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کا تحفظ والدین، معاشرے اور پولیس کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔