مغربی بنگال حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

   

نئی دہلی، 23 جون (یواین آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز اس رِٹ درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں مغربی بنگال حکومت کے اس مبینہ فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت ایس آئی آر ترمیم کے بعد ووٹر فہرست سے خارج کئے گئے افراد کو راشن کی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت ہائی کورٹ میں کی جا سکتی ہے ۔جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے وکیل ایس پرسنا کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔یہ درخواست ایک تنظیم ’پچھم بنگا کھیت مزدور سمیتی‘ نے دائر کی تھی۔ بنچ نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر اس درخواست کی قبولیت پر سول اٹھایا اوردریافت کیا کہ درخواست گزار نے پہلے ہائی کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا۔ تاہم درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ اس معاملے کے ملک گیر اثرات ہیں، کیونکہ مبینہ طور پر کئی ریاستیں ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کو فلاحی منصوبوں کے فوائد دینے سے انکار کر رہی ہیں۔
اس پر بنچ نے کہا کہ یہ چیلنج اس نظرِثانی کے عمل سے الگ ایک آزاد معاملہ ہے ۔
عدالت نے درخواست گزار کو یہ کہتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد وہاں عدالتی کام کاج دوبارہ شروع ہو چکا ہے ۔