مغربی کنارہ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں، کشیدگی برقرار

   

راملہ، 26 جولائی (یو این آئی): مقبوضہ مغربی کنارہ میں فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان ہفتے کے روز ایک بار پھر جھڑپیں ہوئیں، جبکہ یہ واقعات ایک روز قبل قصبہ تلّ میں ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد پیش آئے ، جن میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے ۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی مغربی کنارے میں واقع سوسیا نامی اسرائیلی بستی کے قریب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پتھراؤ ہوا۔ فوج کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ایک فلسطینی نوجوان نے ایک اسرائیلی شہری سے اسلحہ چھین لیا، جس کے بعد فضا میں فائرنگ کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس واقعہ میں ایک اسرائیلی زخمی ہوا، جسے علاج کیلئے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ مبینہ حملہ آور کی تلاش کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور متعدد چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تل ابیب میں تشدد کیخلاف مظاہرے ،9افرادگرفتار

تل ابیب، 26 جولائی (یو این آئی) اسرائیلی میڈیا اور احتجاج کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے خلاف تل ابیب میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران نو افراد کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق ہفتہ کو سیکڑوں افراد تل ابیب کی کاپلان اسٹریٹ پر جمع ہوئے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے تشدد اور اسرائیلی فوجی حکمرانی کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ بائیں بازو کی جماعت حداش اور اس کی اتحادی تنظیموں کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ مدرز اگینسٹ وائلنس نامی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ احتجاج میں 200 سے زائد افراد شریک ہوئے اور الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، جن میں وہ نو افراد بھی شامل ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرہ پیشگی اجازت کے بغیر کیا جا رہا تھا اور اس سے عوامی نظم و نسق متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ سڑک بھی بند ہو گئی تھی۔ یہ احتجاج ایک روز بعد سامنے آیا جب اسرائیلی فورسز نے نابلس کے قریب قصبہ تل میں آبادکاروں کی دراندازی کے دوران چار فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس تصادم میں دو اسرائیلی بھی مارے گئے ۔ مقامی فتح رہنما عصام سیفی کے مطابق جمعہ کو تقریباً 30 اسرائیلی آبادکار غیر قانونی اسرائیلی بستی ہوات گلعاد سے متصل قصبہ تل میں داخل ہوئے اور دو گھروں میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ مقامی باشندوں نے مزاحمت کی، جس پر آبادکاروں نے فائرنگ شروع کر دی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی شخص کو ایک آبادکار سے رائفل چھین کر اس پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ، جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے اسے گولی مار دی۔ اس واقعے میں مزید تین فلسطینی ہلاک اور چار زخمی ہوئے ۔ رملہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن عبی العبودی نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس واقعے سے ایک ہفتہ قبل آبادکاروں نے تل میں ایک گھر کو اس وقت آگ لگا دی تھی جب خاندان کے افراد اس کے اندر موجود تھے۔
ان کے مطابق خوش قسمتی سے مقامی لوگوں نے بروقت خاندان کو گھر سے نکال لیا، ورنہ وہ زندہ جل جاتے ۔ فلسطینی قیدیوں کی تنظیم نے بتایا کہ اس واقعے کے اگلے روز مغربی کنارے میں کم از کم 80 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، جسے اس نے ”اجتماعی سزا” قرار دیا۔ چار فلسطینیوں کی نماز جنازہ سخت پابندیوں کے درمیان علی الصبح ادا کی گئی۔ سیاسی تجزیہ کار اوری گولڈ برگ نے کہا کہ تل کے واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیلی عوام کیلئے اس سے انکار کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق اسرائیلی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہودی آبادکار دیہات میں داخل ہوئے اور پھر اس کا ردعمل کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ اس کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج ہوگا، تاہم اس سے اسرائیل میں لبرل صیہونیت کے باقی ماندہ حلقوں میں احتجاج کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا موڑ ثابت ہو سکتا ہے جس کے بعد اسرائیلی معاشرہ آبادکاروں کے تشدد کو خود سے الگ معاملہ قرار نہیں دے سکے گا۔ سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 1,182 فلسطینی ہلاک، 13,000 زخمی اور تقریباً 24,000 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔