رملہ31 جولائی (یو این آئی) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع گاؤں سوسیا میں قابض یہودی آبادکاروں نے آبی ذرائع اور بجلی کی سپلائی کو نشانہ بنایا ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر اور گاؤں کے رہائشیوں کی زندگی مزید بدتر ہوگئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق گاؤں کے رہائشیوں کا خیال تھا کہ ان کی زندگی اس سے بدتر نہیں ہوسکتی کیوں کہ یہودی آبادکار بار بار ان پر حملے کررہے تھے اور ان کے قیمتی زیتون کے باغات کو تباہ کر رہے تھے، پھر گاؤں والوں کے مطابق چھریوں سے لیس آبادکاروں نے ان کے پانی کے ذرائع کو نشانہ بنایا۔67 سالہ موسیٰ مغنم (جو اپنی 60 سالہ اہلیہ نجاح کے ساتھ ہیبرون کے قریب اس گاؤں میں رہتے ہیں)، نے بتایا کہ ‘وہ چاہتے ہیں کہ ہم بغیر پانی کے زندگی گزاریں، اور یہاں انہوں نے بجلی کی تاریں بھی کاٹ دی ہیں۔ اکتوبر 2023ء میں غزہ کی لڑائی شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں نے اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کی شکایت کی ہے۔ فلسطینی حکام جو مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ علاقوں میں محدود خود مختاری رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آبادکار فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے زبردستی بے دخل کرنے کے لئے پرتشدد کارروائیاں کررہے ہیں تاکہ زمین پر قبضہ کیا جاسکے۔ کچھ دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء کی حمایت سے جو مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے حامی ہیں، آبادکاروں نے فلسطینی کسانوں پر حملے کئے ، درخت کاٹے اور قیمتی زیتون کے باغات کو آگ لگائی۔ سوسیا گاؤں کی کونسل کے سربراہ جہاد النواجہ، نے کہاکہ پانی کی قلت ناقابل برداشت ہوچکی ہے ۔