ملت اسلامیہ کے مسائل اور ان کے حل کیلئے امت مسلمہ کے ذمہ داروں ، عمائدین ملت سے تجاویز درکار

   

مسائل کے حل کے لیے حکومت سے نمائندگی کا تیقن ، جناب عامر علی خاں ایم ایل سی کی امارت ملت اسلامیہ اور جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے خیر سگالی ملاقات
حیدرآباد۔21۔اگسٹ(سیاست نیوز) رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے آج امارت ملت اسلامیہ و جماعت اسلامی ہند صوبہ تلنگانہ کے دفاتر پہنچ کر ذمہ داران سے خیر سگالی ملاقات کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ جماعت اسلامی و امارت ملت اسلامیہ کے دفاتر میں مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘ جناب محمد خالد مبشر الظفر امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ ‘ جناب عبدالمجیدشعیب معاون امیر حلقہ‘ محمد عبدالحکیم رابطہ عامہ ‘ جناب مشتاق اطہر معتمد عمومی ‘ جناب یوسف زاہد کے علاوہ جناب علیم الدین ارشاد سے ہوئی ملاقات کے دوران ملت اسلامیہ کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیاگیا ۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ سے ہوئی ملاقات کے دوران مولانا نے جناب عامر علی خان کو رکن قانون سازکونسل بنائے جانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کو ان سے کئی امیدیں وابستہ ہیں اور توقع ہے کہ وہ امت مسلمہ کی ان امیدوں کو پورا کرنے کی ممکنہ کوشش کریں گے۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے ملاقات کے دوران کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نونامزد رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان ملک و ملت کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کروائیں گے۔ جناب عامر علی خان نے اس ملاقات کے دوران کہاکہ انہیں ملت اسلامیہ کے مسائل اور ان کے حل پر امت مسلمہ کے ذمہ داروں ‘ عمائدین ملت اور مفکرین ملت کی تجاویز درکار ہیں جن کی بنیادوں پر وہ حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے انہیں حل کروانے کے اقدامات کریں گے۔ مولانا نے اس ملاقات کے دوران جناب عامر علی خان کو مشورہ دیا کہ وہ پرانے شہر کے نوجوانوں کی معاشی ترقی کے لئے انہیں ہنر مند بنانے کو ترجیح دیں اور پرانے شہرکی ترقی کے سلسلہ میں منصوبہ بند طریقہ سے کام کرتے ہوئے نوجوانوں کی ترقی کو یقینی بنائیں۔ جماعت اسلامی کے دفتر واقع لکڑکوٹ میں ہوئی امیر حلقہ جماعت اسلامی اور دیگر ذمہ داروں سے ملاقات کے دوران بھی ملت اسلامیہ کے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ امیر حلقہ جماعت اسلامی جناب خالد مبشرالظفر نے اس ملاقات کے دوران حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں کی یاددہانی کرواتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے انتخابات سے قبل مسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں منشور پیش کیا تھا اس پر عمل آوری کروانے کے لئے جناب عامر علی خان سے خواہش کی ۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کی معیشت کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں تجاویز کے متعلق کہا کہ اس سلسلہ میں ایک مشاورتی کمیٹی کے ذریعہ ملت کے سلگتے ہوئے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے متعلق چیف منسٹر سے نمائندگی اور انہیں حل کرنے کی تجاویز پیش کی جائیں اور معینہ مدت کے دوران نشاندہی کردہ مسائل کی یکسوئی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بہ عجلت ممکنہ ان کا حل کیا جاسکے ۔ جناب عامر علی خان نے جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ انہوں نے ملت اسلامیہ کی ترقی کے لئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس میں نوجوانوں کو ہنر مند بناتے ہوئے ان کی معیشت کو مستحکم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اسٹارٹ اپس کے ذریعہ ملت کے قابل اور تعلیمیافتہ نوجوانوں کی معیشت کو مستحکم کرنے کے سلسلہ میں اپنی منصوبہ بندی سے جماعت کے ذمہ داروں کو واقف کروایا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو موقع دیا ہے اسے استعمال کرتے ہوئے وہ ملت اسلامیہ کو درپیش بے پناہ مسائل میں چند مسائل بالخصوص معاشی مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے اقدامات کا منصوبہ رکھتے ہیں کیونکہ اگر معاشی مسائل حل ہوجائیں تو طرز زندگی میں تبدیلی واقع ہونے لگتی ہے جو کہ ماحولیاتی تبدیلی ‘ صحت کے متعلق شعور بیدار ہونے لگ جائے گی۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ وہ اپنی معیاد کے دوران ممکنہ حد تک ملت کے نوجوانوں کو مختلف صنعتوں سے جوڑنے کے علاوہ انہیں معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لئے سرکاری اسکیمات کا بھرپور استعمال کریں گے ۔امارت ملت اسلامیہ کے دفتر میں امیر امارت ملت اسلامیہ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘ مولانا مفتی احمد محی الدین حسامی ‘ ڈاکٹر رضی الدین حسامی کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ مولانا نے اس موقع پر درالقضاء کے ذریعہ جاری سرگرمیوں کے متعلق جناب عامر علی خان کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ دارالقضاء سے رجوع ہونے والے مسائل کے ذریعہ ملت اسلامیہ میں پیدا ہونے والے مسائل کے متعلق آگہی حاصل ہوتی ہے ۔جناب عامر علی خان نے ان ملاقاتوں کے دوران ذمہ داران ملت اسلامیہ سے خواہش کی کہ وہ ملت کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں انہیں متوجہ کروانے کے علاوہ اپنی تجاویز پیش کریں تاکہ انہیں حل کرنے کے لئے موزوں فورم پر مسائل کو پیش کیا جاسکے۔3