حیدرآباد۔ 15 جون (سیاست نیوز) جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست کو چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کا مراسلہ موصول ہوا جس میں مسلم نعش کی تدفین کی درخواست کی گئی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف پولیس اسٹیشنوں سے مزید 14 درخواستیں تدفین کی غرض سے موصول ہوئیں۔ جملہ 15 مسلم نعشوں کو حاصل کرکے سکندرآباد قبرستان میں تدفین عمل میں لائی گئی۔ نماز جنازہ مولانا الحاج سید خواجہ معز الدین اشرفی خلیفہ علامہ مدنی میاں اشرفی ’الجیلانی نے عثمانیہ دواخانہ کے صحن میں پڑھائی۔ مولانا سید حفیظ اشرفی امام و خطیب جامع مسجد محمدیہ نے دعا فرمائی ۔ نماز جنازہ میں محی الدین غوری، سید امیر الدین، سید زبیر ہاشمی، سید زاہد حسین شریک تھے۔ اس موقع پر سکندرآباد کی رہنے والی خاتون بشریٰ تبسم نے حدیث شریف کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر میت کو غسال غسل دیتے وقت اُس کو کوئی عیب دکھائی دے اور وہ کسی کو بیان نہ کرنے پر اللہ پاک غسال کے 40 گناہ کبیرہ معاف کردیتے ہیں اور ایک حدیث میں آیا کہ غسال کی 40 مرتبہ بخشش ہوتی ہے۔ بلاشبہ اللہ پاک اپنے بندوں کو بے حد چاہتے ہیں۔ سید عبدالمنان نے قرآن شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جب بندہ کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے قریب ہم رہتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ پاک اپنے بندوں کو 70 ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان صاحب کی صحت اور درازی عمر کے لئے دعا فرمائی۔ محمد عبدالجلیل، محمد عبدالرزاق نے مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی اور ملت فنڈ میں تعاون کرنے والوں کو اللہ پاک اجر عظیم عطا فرمائے۔ ان کے تعاون کا نتیجہ ہے کہ ادارہ سیاست کی جانب سے پانچ ہزار ایک سو سے زیادہ نعشوں کی تدفین کا انتظام کیا گیا ہے۔