تلنگانہ سے بی جے پی کے زوال کا آغاز ، یشونت سنہا کی تائید کے بعد دہلی میں کے ٹی آر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 27 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے زوال کا تلنگانہ سے آغاز ہوگا ۔ ملک میں امبیڈکر کے دستور پر نہیں بلکہ مودی دستور پر عمل ہورہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے صدارتی امیدوار یشونت سنہا کے پرچہ نامزدگی ادخال کے بعد دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ دستور اور قوانین کے مطابق کام کرنے کی امید کرتے ہوئے ٹی آر ایس نے صدارتی انتخابات کے لیے یشونت سنہا کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم نے یشونت سنہا کو حیدرآباد آنے کی دعوت دی ہے ۔ جن کی ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کرائی جائے گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکز میں آمرانہ حکمرانی کا دور چل رہا ہے ۔ دستور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔ گذشتہ 8 سال سے ریاستوں کے حقوق سلف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ملک کے جن 8 ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہاں پر ان حکومتوں کے خلاف غیر جمہوری اقدامات سے ڈرانے دھمکانے اور مقامی حکومتوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ جس کی ٹی آر ایس سخت مذمت کرتی ہے ۔ دستوری اداروں کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔ اس کے خلاف آواز اٹھانا دستور پر یقین رکھنے جماعتوں اور قائدین کی ذمہ داری ہے ۔ بی جے پی کے غیر جمہوری اصولوں کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے صدارتی انتخابات میں یشونت سنہا کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو سے ہمارا کوئی شخصی اختلاف نہیں ہے ۔ وہ اچھی شخصیت کی مالک ہوسکتی ہے ۔ قبائلی خاتون کو امیدوار بنانے کا دعویٰ غیر مناسب ہے ۔ 2 جنوری 2006 کو اڈیشہ میں اسٹیل پلانٹ کی مخالفت میں احتجاج کرنے والے 13 قبائیلوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ۔ تب بی جے پی کی تائید سے قائم ہونے والی حکومت میں دروپدی بھی وزیر تھیں تب انہوں نے کوئی ہمدردی کا اظہار نہیں کیا ۔ قبائیلی سے نا انصافی ہونے کی بات بھی کی ۔ اگر قبائیلوں پر بی جے پی کو حقیقت میں ہمدردی ہے تو قبائیلوں کے تحفظات میں توسیع کے لیے تلنگانہ اسمبلی میں جو قرار داد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کی گئی ہے اس کو فوری منظوری ، تلنگانہ میں قبائیلی یونیورسٹی قائم کریں ۔۔ ن