ملک میں ا یل پی جی قلت کیخلاف پارلیمنٹ احاطہ میں اپوزیشن کا احتجاج

   

سڑک پر علامتی چولہا لگاکرخاتون ارکان کا مظاہرہ‘ حکومت کی غلط پالیسیوں سے عوام کو مشکلات
’نریندر بھی غائب، سلنڈر بھی غائب‘۔ ’نام نریندر، کام سرینڈر‘۔کے بیانرس اور نعرے بازی

نئی دہلی ۔12؍مارچ ( ایجنسیز )ملک میں ایل پی جی کی قلت کے مسئلے کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ احاطہ میں احتجاج کیا اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور پرینکا گاندھی سمیت کئی اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ شریک ہوئے۔مظاہرے کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے علامتی انداز میں سڑک پر گیس سلنڈر رکھ کر احتجاج کیا۔ کچھ خواتین ارکان جن میں پرینکا گاندھی بھی شامل ہیں نے زمین پر بیٹھ گئیں اور اینٹوں کی مدد سے عارضی چولہا بنا کر اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ ایل پی جی کی قلت سے عام گھریلو زندگی کس طرح متاثر ہو رہی ہے۔احتجاج کے مقام پر سرخ رنگ کے سلنڈروں کے ماڈل بھی رکھے گئے تھے جبکہ کئی مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر موجود تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ایک بڑے بینر پر ہندی میں لکھا تھا کہ ’نریندر بھی غائب، سلنڈر بھی غائب‘۔ مظاہرین نے اس دوران نعرے بازی بھی کی جن میں ’نام نریندر، کام سرینڈر‘ اور ’مودی جی سدن میں آئیں‘ جیسے نعرے شامل تھے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں گیس سلنڈر کیلئے لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے اور حکومت اس مسئلے پر سنجیدہ نظر نہیں آ رہی۔کانگریس نے اپنی ایکس پوسٹ میں الزام لگایا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک بھر میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہو گئی ہے جس سے لاکھوں گھرانے متاثر ہو رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق حکومت نے اس بحران کا اندازہ لگانے میں ناکامی دکھائی اور انتظامی سطح پر بھی مناسب تیاری نہیں کی جس کے نتیجے میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کانگریس نے یہ بھی کہا کہ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ لوگ گیس سلنڈر حاصل کرنے کیلئے طویل قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ پارٹی کے مطابق حکومت نے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور مسئلے کے حل کیلئے کوئی واضح قدم سامنے نہیں آیا۔اس موقع پر راہول گاندھی نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ملک سے کہہ رہے ہیں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ خود وزیر اعظم گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اڈانی کیس اور ایپسٹین فائلز کی وجہ سے دباؤ میں ہیں اور اسی وجہ سے وہ ایوان کے اندر آ کر اس مسئلے پر بات نہیں کر رہے۔راہول گاندھی نے مزید کہا کہ عوام پریشان ہے تو حکومت کو پارلیمنٹ میں آ کر اس پر واضح جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس بحران کی اصل وجہ کیا ہے اور حکومت اس سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات کر رہی ہے۔