فتنہ ارتداد سے بچنے مسلم لڑکے لڑکیوں کے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ضرورت پر زور ۔ صدر جمیعۃ مولانا ارشد مدنی کا خطاب
نئی دہلی : جمعیت العلماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کا اہم اجلاس صدر جمعیت مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کے شرکاء نے ملک کی موجودہ صورتحال پر غور و خوض کرکے بڑھتی ہوئی فرقہ واریت ، شدت پسندی امن و قانون کی ابتری اور مسلم اقلیت کے خلاف بدترین امتیازی رویہ پر سخت تشویش کا اظہارکیا ۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ملک کے امن و اتحاد اور یکجہتی کیلئے یہ اچھی علامت نہیں ہے ۔ اجلاس میں جمعیت کی قانونی امداد کمیٹی جو مقدمات لڑرہی ہے ان کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ ان میں آسام اور شہریت اور ملک میں مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق ایکٹ کو برقرار رکھنے والے مقدمات بھی شامل ہیں ۔ آسام شہریت کے تعلق سے سپریم کورٹ نے جو این آر سی کروائی ہے اس کی بنیاد 197ہے ۔ اگر 1951 کو بنیاد بنایا گیا تو ایک بار پھر آسام کے لاکھوں لوگوں کی شہریت پر خطرہ منڈلانے لگے گا ۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ 10 جنوری کو سماعت کرے گی ۔ اسی طرح عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضداشت پر سپریم کورٹ 9 جنوری کو سماعت کریگی ۔ غور وخوض کے بعد طئے پایا کہ جمعیت کی مجلس منتظمہ کا اجلاس پٹنہ میں کیا جائے گا ۔ اس کیلئے 24 اور 26 فبروری کی تاریخیں مقرر کی گئی ہیں جبکہ 26فبروری کو اجلاس عام منعقد ہوگا ۔ نادار اور ضرورت مند طلبہ کو اسکالرشپ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ایک کروڑ سے بڑھاکر اس سال دو کروڑ روپئے کردی گئی ہے ۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ایک طرف جہاں مذہبی شدت پسندی کو ہوا دینے اور عوام کے ذہنوں میں منافرت کا زہر بھرنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں مسلمانوں کو تعلیمی اور سیاسی طور پر بے حیثیت کرنے کے منصوبہ کا بھی آغاز ہوچکا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران ملک کی اقتصادی اور معاشی حالت حددرجہ کمزور ہوئی ہے اور بے روزگاری میں خطرناک اضافہ ہوچکا ہے مگر اقتدار میں بیٹھے لوگ ملک کی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور اس میں جانبدار میڈیا ان کا ساتھ دے رہا ہے ۔ مذہب کا نشہ پلاکر بہت دنوں تک حقیقی مسائل سے گمراہ نہیں کیا جاسکتا ۔ روٹی ، کپڑا اور مکان انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں اس لئے منافرت کی سیاست کو بڑھاوا دینے کی جگہ اگر روزگار کے وسائل نہیں پیدا کئے گئے ، نوجوانوں کو نوکریاں نہیں دی گئیں تو وہ دن دور نہیں کہ جب نوجوان نسل سراپا احتجاج ہوکر سڑکوں پر نظر آئیگی ۔ آسام ، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ ریاستوں میں مسلمانوں کو بے گھر کرنے منصوبہ بندی کی مذمت کی ۔ ملک میں پھیل رہے ارتداد کے فتنہ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف اسے منصوبہ بند طریقہ سے شروع کیا گیا ہے جس کے تحت ہماری بچیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اگر اس فتنہ کو روکنے موثر تدبیر نہ کی گئی تو آئندہ دنوں میں صورتحال دھماکہ خیز ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس فتنہ کو مخلوط تعلیم کی وجہ سے تقویت مل رہی ہے اور ہم نے اسی لئے اس کی مخالفت کی تھی ۔ ہم مخلوط تعلیم کے خلاف ہیں ، لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ملت کی فلاح و بہبود اور ان کی تعلیمی ترقی کیلئے اب جو کچھ کرنا ہے ہمیں ہی کرنا ہے ۔ ملک کی آزادی کے بعد ہم بحیثیت قوم تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر ہیں ، ہمیں ایک طرف طرح طرح کے مسائل میں الجھایا جارہا ہے تو دوسری طرف ہم پر اقتصادی ، سماجی ، سیاسی اور تعلیمی ترقی کی راہیں بند کی جارہی ہیں ۔ اس خاموش سازش کو اگر ہمیں ناکام کرنا ہے اور سربلندی حاصل کرنا ہے تو ہمیں اپنے بچوں اور بچیوں کیلئے علیحدہ تعلیمی ادارے خود قائم کرنے ہونگے ۔ ا