الیکٹرانکس ’ روز مرہ کی اشیاء ‘ تیل اور دیگر اشیا 6 تا8 فیصد مہنگی ہوسکتی ہیں
حیدرآباد۔28جولائی(سیاست نیوز) تہواروں کے موسم کے آغاز سے قبل ہندستان بھر میں صارفین پر مہنگائی کا بوجھ عائد کرکے انہیں معاشی مشکلات میں مبتلاء کرنے کی تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں۔ہندستان میں الکٹرانکس اشیاء‘ الکٹریکل اشیاء‘ کی تیاری کرنے والی کمپنیوں کے علاوہ روزمرہ کی اشیاء کی تیاری کرنے والوں نے جاریہ ماہ کے اواخر میں اپنی اعظم ترین قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اور اگسٹ سے بازار میں آنے والی اشیاء کے MRP میں 6 تا 8 فیصد اضافہ کا خدشہ ہے۔ بتایا گیا کہ سرکردہ کمپنیوں نے پیاکیجنگ اشیاء کے علاوہ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں تیار ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں 8 فیصد تک اضافہ کیا جائے جو کہ صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔ حکومت کی خارجہ پالیسی کے نتیجہ میں پیدا اس صورتحال کے سلسلہ میں کمپنی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عالمی بازار میں اچھال اور گراوٹ سے جو مہنگائی میں اضافہ ہوا اس کے منفی اثرات اب ہندستانی بازاروں پر مرتب ہونے لگ جائیں گے۔ سرکردہ کمپنیوں نے روزمرہ کے استعمال میں آنے والی اشیاء چائے کی پتی سے کولڈ ڈرنکس اور بالوں کے تیل سے خوردنی تیل کی قیمتوں میں تک اضافہ ہونے کا خدشہ ہے ۔عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ و ڈالر کی قیمتوں میں عدم استحکام سے پیدا شدہ صورتحال ‘ روپئے کی قدر میں گراوٹ کے نتیجہ میں کمپنیاں قیمتوں میں اضافہ پر مجبور ہوچکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہندستان کی بیشتر کمپنیاں جو صابن ‘ شیمپوجیسی اشیاء تیار کرتی ہیں وہ بھی مہنگی ہوجانے کا خدشہ ہے۔روپئے کی قدرمیں گراوٹ اور تیل کے بازار میں عدم استحکام سے عالمی بازاروں سے ہندستان پہنچنے والی اشیاء کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی ہونے لگی ہے جو کہ سرکردہ کمپنیوں کے کاروبار کو متاثر کر رہی ہے اسی لئے کمپنیوں کے ذمہ داروں نے فیصلہ کیا کہ تہواروں کے آغاز سے قبل ہی اپنی تیارکردہ اشیاء کی قیمتوں میں 6تا8 فیصد کے اضافہ کے ذریعہ کمپنیوں کو منافع بخش بنائے رکھنے کے اقدامات کئے جائیں ۔3/k/b