روش کمار
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں کمی آئی ہے اور آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا پورا پورا امکان ہے لیکن افسوس بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ مودی جی کی حکومت پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ ساتھ سی این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرتی جارہی ہے۔ نتیجہ میں مہنگائی میں بھی ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا ہمارے ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں 500 روپئے فی لیٹر پٹرول خریدیں گے لیکن ووٹ مودی جی کو ہی دیں گے۔ ایسا کہنے والی عوام کے لئے ایک بہت اچھی خبر ہے۔ 500 روپئے فی لیٹر پٹرول کی قیمت ابھی دور ہے مگر دہلی میں عوام 100 روپیہ لیٹر پٹرول بھروا سکتی ہے۔ 25 مئی کو پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 2.61 روپئے کا اضافہ کیا گیا اور یزل کی قیمت میں فی لیٹر 2.71 روپئے بڑھادیئے گئے۔ اگر دیکھا جائے تو 11 دنوں میں پٹرول کی قیمت 7.94 روپئے اور ڈیزل کی قیمت 7.57 روپئے بڑھی ہے۔ دہلی میں بھی نارمل پٹرول 100 روپئے کو عبور کرچکا ہے۔ سی این جی کی قیمت میں بھی فی کیلو 4 روپئے بڑھادیئے گئے (جبکہ 26 مئی کو سی این جی کی قیمت میں فی کیلو 2 روپئے کا اضافہ کردیا گیا)۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھتے ہی میڈیا میں اچھل کود مچ جاتی ہے مگر عوام اچھل کود نہیں کرتی۔ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی خبر بریکنگ نیوز بن جاتی ہے لیکن عوام کے ردعمل کو دیکھ کر آپ کو محسوس نہیں ہوگا کہ شہر میں اتنی بڑی بات ہوگئی پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوگیا اسے سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔ عوام نے مہنگائی کا نام سنتے ہی ہائے ہائے کرنا، سڑکوں پر اُترنا کیوں بند کردیا ہے۔ تمام چیانلوں پر پٹرول پمپس سے آنے والے لوگوں کے ردعمل کو سنئے آپ کو محسوس ہوگا کہ ہندوستان کے عوام بین الاقوامی اُمور کی ماہر ہوگئی ہے۔ پٹنہ تک میں لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ کی بین الاقوامی وجوہات کو تسلیم کررہے ہیں۔ حکومت کی مجبوری کو جان لینے کی پہچان لینے کی یہ سمجھداری 2014ء سے پہلے کیوں نہیں آپائی اور اس کے بعد کیسے آئی؟ وجوہات جو بھی رہی ہوں مگر عوام سمجھدار ہوگئے۔ قیمتیں بڑھنے سے زیادہ عوام کے سمجھ دار ہونے کی خبر بڑی لگتی ہے۔ پٹنہ میں پٹرول 113 روپیہ فی لیٹر ہوگیا ہے۔ دام بڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگ گلوبل اکسپرٹس کی طرح حکومت کی مجبوری سمجھارہے ہیں۔ تو دام کا بڑھنا پٹرول پمپ پر ملنے والے عوام کی زندگی کا حصہ ہے نہ کہ زندگی کو لگنے والا دھکہ ہے۔ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر مہنگائی کے خلاف بولنے کا ڈر بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ 24 مئی کو عامر خان فلم پروڈکشن نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک گانے کا ویڈیو ٹوئیٹ کردیا۔ مہنگائی ڈائن کھات جات ہے لیکن کچھ دیر کے بعد گانے کا ویڈیو حذف کردیا جاتا ہے۔ حذف کرنے کی وجہ تو نہیں بتائی گئی لیکن یہ سوال لوگ پوچھنے لگے کہ اکثر مہاراشٹرا کے چیف منسٹر سے لے کر تمام بااثر لوگوں کے ساتھ فوٹو فریم میں نظر اانے والے عامر خان کیا اتنا ڈر گئے اپنی ہی فلم کا گانا ٹوئیٹ کیا اور حذف کردیا۔ جب عامر خاں ہمت نہیں کرپارہے ہیں تو پٹرول پمپ پر پٹرول بھرواکر سرکاری دفتر جارہے عام سرکاری ملازم سے یہ کیوں شکایت ہونی چاہئے کہ وہ پٹرول کے دام بڑھنے پر غصہ میں ردعمل ظاہر نہیں کررہا ہے۔ کیا اسے ڈر نہیں لگتا ہوگا۔ بی جے پی کے جو لیڈران 2014ء سے پہلے مہنگائی ڈائن کھات جات ہے اس گانے پر ڈانس کیا کرتے تھے۔ منموہن سنگھ کی حکومت کو گھیرا کرتے تھے، کیا آج وہ اسی گانا کو بجا سکتے ہیں؟ یا جو خاموشی ہے سب کو پتہ ای ڈی کیا کرسکتی ہے، تیل کے لئے کئی سال بھٹکنے سے اچھا ہے مہنگائی ڈائن والے گانے کو ہی ہمیشہ کے لئے دفن کردیا جائے۔ مہنگائی بڑھی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ مہنگائی کے خلاف بولنے کا ڈر بڑھ گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ تنخواہ بڑھ رہی ہے، ملازمتیں بڑھ رہی ہیں، ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔ پھر بھی مہنگائی کی مخالفت کھلے عام نظر نہیں آرہی ہے۔ سی بی ایس سی کے امتحان میں پیپر چیکنگ کو لے کر بڑی تعداد میں طلبہ سوال کررہے ہیں تو انھیں پاکستانی بتایا جارہا ہے، کب کسے پاکستانی بتادیا جائے گا، پاکستانی بتانے والے ہجوم میں شامل عوام مہنگائی کی اب اس ڈر سے بھی مخالفت نہیں کرتی ہے۔ ویدانت ایک طالب علم ہیں انھوں نے ٹوئٹر پر آکر لکھ دیا کہ CBSE سے اُنھوں نے فزکس کا پرچہ دیکھنے کیلئے مانگا جو پیپر دیا گیا وہ ان کا نہیں تھا۔ ویدانت کے اس ٹوئٹ کو 20 لاکھ لوگوں نے پڑھ لیا۔ جواب میں ٹوئٹر پر ویدانت کو پاکستانی بتایا جانے لگا ہے۔ تب ان کے بھائی سدانت سریواستو کو آکر لکھنا پڑا کہ ان کے بھائی کو پاکستانی کیسے بتایا جاسکتاہے۔ ویدانت ہندوستان کا شہری ہے۔ ہندوستان میں رہتا ہے اور اسے پاکستانی بتایا جارہا ہے یہ کتنا خطرناک کھیل ہونے لگا ہے۔ اس ملک میں۔ کیا آپ سمجھ رہے ہیں کہ ویدانت کے دماغ پر کس طرح کا اثر پڑا ہوگا۔ اس ملک میں ایک چھوٹے سے بچے کو پاکستانی کہا جارہا ہے، غنڈہ گردی اتنی بڑھ گئی ہے اور اسے بڑھانے میں وہی لوگ شامل ہیں جو مہنگائی کے سوال پر گول مول باتیں کررہے ہیں۔ انھیں پتہ ہے کہ اگر وہ مخالفت کریں گے تو دفتر پہنچنے پر ان کی جو درگت بنائی جائے گی وہ عبرتناک ہوگی اس لئے آپ کو مہنگائی سے برباد عوام دکھائی دے گی مگر مہنگائی کی مخالفت کرتے ہوئے عوام نظر نہیں آئے گی۔ 28 اپریل کی خبر ہے ریزرو بینک آف انڈیا نے بینکوں سے کہاکہ مالی سال 2027ء میں لون ڈیفالٹ بڑھ سکتا ہے اس کے لئے ابھی سے تیار کرلیجئے۔ الگ سے فنڈ جمع کرکے رکھئے تاکہ اس جھٹکہ کا سامنا کیا جاسکے۔ 16 مئی کو دی ہندو بزنس لائن میں متھوٹ فینانس کے منیجنگ ڈائرکٹر جارج الیگزینڈر متھوٹ کے انٹرویو کا اندازہ دیکھئے۔ لکھا ہے کہ پہلے سے زیادہ لوگ سونے کے عوض قرض لے رہے ہیں۔ مالی سال 2026ء میں متھوٹ فینانس نے سونے کے عوض قرض میں 48 فیصد کا اضافہ درج کیا ہے۔ ایم ڈی متھوٹ نے لال ٹنڈو مشرا سے کہاکہ لوگ کی قوت خرید کم ہورہی ہے۔ ہندوستان میں جگہ جگہ سسٹم میں سوراخ ہوچکے ہیں جہاں سے رساؤ کی خبریں آنے لگی ہیں۔ تائیوان کو جو کرنا ہے کرے ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک ایک امتحان کا انعقاد ہی ٹھیک سے کرالے بہت ہے۔ کئی دل جلے بتارہے ہیں کہ رام رحیم کو 8 سال میں 435 دنوں کی پیرول دے کر ہندوستان کی انتظامی اور انصاف کی صورتحال مذاق بنادی گئی ہے۔ کیا واقعی میں ہمارا مذاق اُڑ رہا ہے، آپ کو بھی دکھائی دیا مجھے نہیں لگتا کہ نظام انصاف کا مذاق اُڑ رہا ہے۔ اگر ہندوستان کے نظام کو لگتا ہے کہ اس کا مذاق اُڑ رہا ہے تو کیا رام رحیم کو بار بار پیرول دیا جاتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ رام رحیم کو 30 دنوں کے پیرول پر چھوڑنے سے نظام انصاف کا مذاق نہیں اُڑا ہے بلکہ اس بات کا مذاق اُڑ رہا ہے کہ اب کوئی مذاق بھی نہیں اُڑاتا۔ رام رحیم کے باہر آنے سے نظام انصاف اور انصاف کی صورتحال کا مذاق نہیں بنتا۔ مذاق اُس کا اُڑتا ہے جو انصاف کی صورتحال کا مذاق اُڑاتا ہے۔ عمر خالد، شرجیل امام کا معاملہ دیکھئے، بھیما کورے گاؤں کیس میں پروفیسر سے لے کر وکیل تک کی ضمانت کا معاملہ دیکھئے، کئی سال چلا ایک ضمانت کیلئے ہائیکورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک مقدمات کی سماعت ہوتی رہی ضمانتیں رد ہوتی رہیں۔ بھیما کورے گاؤں میں تو ضمانت پھر بھی کئی سال کے بعد مل گئی لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت بھی نہیں ملتی۔ ان کی ضمانت پر سماعت اتنی چلی جیسے بہت بڑا قانونی بحران ہو مگر رام رحیم پیرول پر جب باہر آتے ہیں ہندوستان کے نظام انصاف کو خود کے قصوروار ہونے کے احساس سے پاک کردیتے ہیں۔ ان کے باہر آنے سے انصاف کی صورتحال اپنی ساکھ کو لے کر ذرا بھی فکرمند نظر نہیں آتی۔ جاریہ سال 7 مارچ کو سرسہ کے صحافی رامچندر چھترپتی کے قتل کے الزام میں رام رحیم کو بری کردیا گیا۔ پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا سے بری کردیا۔ 2002ء میں پورا سچ نام کا اخبار نکالنے والے رامچندر چھترپتی جی کو ان کے ہی گھر کے سامنے 5 گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ ہندوستان کا میڈیا ایک صحافی کے قتل کے معاملہ میں بھی چپ رہ جاتا ہے۔ گودی میڈیا ہونے کے یہی سب فائدے ہیں بے وجہ آپ کو غلط بولنے کا جھنجھٹ مول لینا نہیں پڑتا۔ وزیراعظم نریندر مودی عام عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ پٹرول ڈیزل کا استعمال کم کیجئے۔ ان کی اپیل کے بعد لکھنؤ سے ایک ویڈیو آتا ہے کہ سارے عدلیہ کے عہدہ دار سیکل سے عدالت جارہے ہیں، پٹرول بچارہے ہیں لیکن رام رحیم 10 کاروں کے قافلے کے ساتھ باہر نکلتا ہے۔