ملک کی دولت گجرات سےبیرون ملک منتقل ہورہی ہے

   

ٹی سریندر …سرشتی ویدیا
وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات سے اربوں ڈالرس کی رقم بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری کیلئے جارہی ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ یہ کام بڑی خاموشی سے انجام دیا جارہا ہے ۔ ویسے بھی اندرون ملک بھی جو سرفہرست صنعتکار ہیں اُن میں گجراتی سرفہرست ہیں ، اس ضمن میں خاص طورپر مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کے نام لئے جاسکتے ہیں ۔ اگر ان دونوں صنعتکاروں کی دولت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فی الوقت اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیاء کے دولتمند ترین شخصیت ہیں ۔ وہ صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر ریلائینس انڈسٹریز مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔ بلومبرم بلینرس انڈکس گوتم اڈانی 92.6 ارب ڈالر دولت کے مالک ہیں جبکہ مکیش امبانی 90.8 ارب ڈالرس دولت کے مالک ہیں اور ان دونوں ہندوستانی صنعتکاروں کے نام دنیا کے 20 سرفہرست دولتمندوں میں شامل ہیں۔
ہم بات کررہے تھے گجراتیوں کی اُن کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بیرونی ملکوں کو جانے اور وہاں تجارت کرنے کے ساتھ ساتھ بس جانے کیلئے شہرت رکھتے ہیں خاص طورپر گجراتیوں نے عمان ، یمن ، بحرین ، کویت ، زنزیبار اور خلیج فارس کے دوسرے ملکوں کو ہجرت کی ۔ برطانیہ ، امریکہ ، کینیڈا ، فیجی اور آفریقی بالخصوص جنوبی و مشرقی آفریقی ملکوں میں گجراتی باشندوں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں جو ہندوستانی باشندے مقیم ہیں ان میں 33 فیصد تو گجراتی باشندے ہیں اور آپ کو اقوام متحدہ کی جانب سے اقتدار اعلیٰ یا مقتدر اعلیٰ قرار دیئے گئے 190 ملکوں میں سے 129ممالک میں گجراتی پائے جاتے ہیں۔
آپ کو بتادیں کہ ملیالی باشندوں کی بہ نسبت گجراتیوں کو اپنی زبان سے کہیں زیادہ اپنے کاروباری یا تجارتی مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں اہم عہدوں پر گجراتی فائز ہیں ۔ اس ضمن میں ہم کاش پٹیل ڈائرکٹر فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن FBI مسٹر کاش پٹیل ، یزا ویلانی ، ارون منی لال گلذمی ، بین کنگسلے ، بھارت دیسائی ، دیو پاٹل ، کانتی لال جیون شاہ ، محمد ممدانی ، نمیشا مہتا ، رضوان مانجی ، سیلم کارا ، شبیر علی ، شیکھر مہتا ، زہران ممدانی میئر نیویارک کی مثالیں پیش کرسکتے ہیں ۔ ان تمام تفصیلات میں جانے کا مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ گجرات سے وہ بھی بڑی خاموشی کے ساتھ اربوں ڈالرس بیرونی سرمایہ کاری کیلئے منتقل کئے جارہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں آپ کو یہ بتانا چاہیں گے کہ گجرات کا ایک چمکتا لیکن بمشکل نظر آنے والا مالیاتی ضلع Financial District خاموشی سے عام ہندوستانیوں کیلئے سب سے آسان گیٹ وے بن رہا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کا حصہ چاہتے ہیں لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اُنھیں یہ حصہ مل سکتا ہے یا فراہم کیا جاسکتا ہے ۔
سوربھ مکرجی اس قسم کے فنڈ منیجر نہیں جو محتاط زبان سے اپنے داؤ کو روکتے ہیں ، مارسلس انوسٹمنٹ منیجرس کے بانی جو ہندوستان کے سب سے زیادہ قریب سے دیکھے جانے والے بوٹیک فنڈ ہاؤس میں سے ایک ہے ، یہ بھی حقیقت ہیکہ سب نے بلند آواز میں کہنے کا کیریئر بنایا ہے جو دوسرے سرگوشیوں میں زندگیاں گذار دیتے ہیں ۔ اس کیلئے اُن کی ایک تازہ تخلیق یا کتاب Break Point The Crisis of the Middle Class and the Future of Work کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے جسے جگرنینٹ نے مارچ 2026 ء میں شائع کیا اور اس کی شریک مصنف ممتاز ماہر اقتصادیات نندیتا راجھنسا اور فروغ انسانی وسائل کی پیشہ وارانہ ماہر سپنا بھاوسر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں مدلل دلائل کے ساتھ یہ بحث کی ہے کہ ہندوستانی حکومت اپنے متوسط طبقہ اور کم آمدنی کے حامل طبقہ کیلئے روزگار کے مناسب مواقع پیدا نہیں کررہی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ہندوستانی کاروبار میں سرمایہ کاری کا مواقع میں گراوٹ آئیگی۔ اس کے برعکس بیرون ممالک کے اسٹاکس اور کاروبار وں میں سرمایہ کاری پر پُرکشش پیشکش کی جارہی ہیں اور وہاں نفع کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔
Mercellus نے پہلے ہی گفٹ سٹی ، گجرات انٹرنیشنل فینانس ٹیک سٹی میں پہلے ہی ایک فنڈ قائم کر رکھا ہے اور گاندھی نگر کے قریب واقع اس شہر کو اقتصادی مرکز یا فینانشیل ہب کا نام دیا ہے اور اب وہ اسی طرح کا دوسرا اقتصادی مرکز بھی قائم کرنے والا ہے ۔ تاحال جو کارپس ہے وہ تقریباً 100 کروڑ روپئے کا ہے اور ان تمام چیزوں کا ہدف بین الاقوامی بازار ہے۔ اس کے علاوہ Merac asset کا بھی گفٹ سٹی فنڈ ہے ۔ اسی طرح ڈی ایس پی انوسٹمنٹ منیجر بھی کرتے ہیں ۔ گفٹ سٹی سے پہ چلتا ہے کہ ایک دوسرا مقصد مل گیا ہے اور یہ اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے جس کیلئے یہ اصل میں بنایا گیا ہے ۔
دوسرا مقصد ! سمجھیں کہ آج مالیاتی مرکز میں کیا ہورہا ہے ، آپ کو جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ کیوں بنایا گیا ہے ۔ جب گجرات کے اُس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے 2007 ء میں پہلی بار اس خیال کا خاکہ پیش کیا تو پچ سیدھی تھی ۔ ہندوستان کو ایک مسئلہ درپیش تھا روپیہ آزادانہ طورپر تبدیل نہیں کیا جاسکتا تھا یعنی غیرملکی سرمایہ قواعد و ضوابط کی دیوار سے ٹکرائے بغیر اندر اور باہر تبدیل نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اگر ہندوستان ایک عالمی مالیاتی مرکز ، آف شور بنکنگ ہوائی جہاز کی لینڈنگ ، بین الاقوامی انشورنس ، عالمی تجارتی میزوں کے پھندے میں پھنسنا چاہتا ہے تو اسے ایک حل کی ضرورت تھی گفٹ سٹی وہ کام تھا ۔ ہندوستانی سرزمین پر ایک نامزد زون جہاں کرنسی کی تبدیلی کے ایک ویژن کی اجازت دی جائے گی جو کاروبار کے معمول کے سرخ فیتے کے بغیر ڈالرس میں لین دین کرنے کیلئے کافی ہے ۔
اس کے بعد کے بیشتر برسوں تک گفٹ سٹی کو سنگاپور یا دوبئی کے ممکنہ حریف کے طورپر بیان کیاگیا ، اس مرکز کو اپنے ٹاورس ، ایسی سڑکوں ، ایسی ریگولیٹیڈ زون ملے لیکن ایک حقیقی مالیاتی مرکز کی گونج نہیں ملی ۔ جس قسم کا آپ محسوس کرتے ہیں جب آپ ہانگ کانگ میں تجارتی منزل پر جاتے ہیں یا میان ہیٹلس کے نچلے حصہ میں قدم رکھتے ہیں تیار کرنا مشکل تھا ۔ جو چیزیں بدلی وہ ایک ایسی تبدیلی تھی جس کیلئے کسی نے منصوبہ بندی نہیں کی تھی وہ جگہ بننے کی بجائے جہاں غیرملکی پیشہ آیا گفٹ سٹی تیزی سے وہ جگہ بنتی جارہی ہے جہاں سے پیسہ ہندوستان سے باہر جاتا ہے ۔ جیسا کہ فنڈ منیجرس اب اس کی وضاحت کرتے ہیں ان پاؤنڈ کیپٹل سے لے کر آؤٹ باؤنڈ سرمایہ کاری تک ہے ۔ برسوں سے عام ہندوستانی جو عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں مثلاً ایپل میں ، نیوڈیا میں اور Commoditis Fund میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اُن کے پاس دو جائز اختیارات تھے ۔ دونوں ہی بینکس حدود کے ساتھ پہلی فراخدلانہ ترسیل زر اسکیم تھ یا LBS جو ہر ہندوستانی باشندہ کو ہر سال 350000 ڈالرس تک بیرون ملک سرمایہ کاری کیلئے بھیجنے کی اجازت دیتی ہے دوسرا فنڈ تھا ۔ ہندوستانی فنڈ جو رقم کو آف شور فنڈ میں لے جاتے ہیں لیکن مارکٹ ریگولیٹر SEBI نے ان پر 7 ارب ڈالر کی اجتماعی حد لگائی اور اس حد کو نقصان پہنچا دروازے عملی مقاصد کے لئے بند ہیں۔