چین اور روس کے بعد تلنگانہ کو اعزاز، ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کیلئے حکومت کی مساعی
حیدرآباد۔/27 ستمبر، ( سیاست نیوز) ملک میں پہلی فاریسٹ یونیورسٹی تلنگانہ کے ملگ ضلع میں قائم کی گئی ہے۔ روس اور چین کے بعد دنیا بھر میں یہ تیسری فاریسٹ یونیورسٹی ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ماحولیات کے تحفظ اور جنگلات کی حفاظت پر خصوصی توجہ مرکوز کی جس کے تحت فاریسٹ یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اسمبلی کی منظوری کے بعد حکومت نے یونیورسٹی کے قیام میں پہل کرتے ہوئے فاریسٹ کالج اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو یونیورسٹی کی سمت پہلا قدم ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 2016 میں فاریسٹ کالج اینڈ ریسرچ سنٹر کا قیام عمل میں آیا تھا اور حکومت نے اسے یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کے مطابق ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی حفاظت کے سلسلہ میں فاریسٹ یونیورسٹی اہم رول ادا کرے گی۔ یونیورسٹی کے قیام کیلئے تلنگانہ میں منظور کردہ فاریسٹ یونیورسٹی ایکٹ 2022 ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی کورسیس نرسری مینجمنٹ، ایگرو فاریسٹری، فاریسٹ انٹرپرینورشپ اور دیگر مربوط کورسیس کا آغاز کیا جائے گا۔ یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد کو 726 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ موجودہ فاریسٹ کالج میں طلبہ کی تعداد 360 ہے۔ چیف منسٹر یونیورسٹی کے چانسلر رہیں گے اور وہ وائس چانسلر کا تقرر کریں گے۔ ریاست میں ہریتا ہرم پروگرام کے تحت حکومت 36 فیصد علاقے کو سرسبزو شاداب بنانے کی مہم شروع کرچکی ہے۔ اس مہم کے تحت ریاست میں ابھی تک 268.83 کروڑ پودے لگائے گئے۔ گذشتہ 8 برسوں میں حکومت کی مساعی سے ریاست میں گرینری میں 7.7 فیصد جبکہ جنگلات میں 6.85 فیصد کی توسیع ہوئی ہے۔ر