دہلی 395 کیلو میٹر کے ساتھ سرفہرست، تلنگانہ میں میٹرو کا دوسرا مرحلہ مرکز کی منظوری کا منتظر
حیدرآباد 14 مئی (سیاست نیوز) ملک میں بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ہر سال نئی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ نے اہم شہروں میں ٹریفک کے بہاؤ میں دشواری پیدا کردی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو گھنٹوں ٹریفک جام کا سامنا ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بناتے ہوئے عوام کو ٹریفک مسائل سے راحت دینے کے لئے میٹرو نیٹ ورک میں توسیع دی جارہی ہے۔ گزشتہ سال ملک کے کئی بڑے شہروں میں میٹرو ریل نیٹ ورک 922 کیلو میٹر توسیع اختیار کرچکا ہے۔ میٹرو ریل ٹرانسپورٹ سسٹم نے دارالحکومت دہلی 395 کیلو میٹر کے ساتھ ملک میں سرفہرست ہے۔ کرناٹک، مہاراشٹرا، تلنگانہ اور گجرات کی حکومتوں نے بھی میٹرو ٹرین کی توسیع کے ذریعہ شہری علاقوں کو مربوط کرنے کی مساعی کی ہے۔ میٹرو ٹرین نیٹ ورک کے آغاز سے سرکاری اور خانگی شعبہ میں ملازمت کرنے والے افراد کو فائدہ ہوا ہے اور وہ مقررہ وقت پر اپنی منزل کو پہونچ پارہے ہیں۔ میٹرو ریل نیٹ ورک سے متعلق گزشتہ سال کے سروے کے مطابق مہاراشٹرا میں میٹرو نیٹ ورک کے تحت 80 کیلو میٹر کا احاطہ کیا گیا۔ ملک میں آج بھی کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں میٹرو نیٹ ورک کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ کرناٹک، تلنگانہ، نئی دہلی اور مہاراشٹرا کی حکومتوں نے اہم شہری علاقوں کو مربوط کرنے کے لئے نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ دارالحکومت دہلی کے بعد کرناٹک 96 کیلو میٹر میٹرو نیٹ ورک کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ تلنگانہ میں پہلے مرحلہ کے تحت 69 کیلو میٹر کا احاطہ کیا گیا اور دوسرے مرحلہ کے پراجکٹ کے لئے مرکز سے منظوری کا انتظار ہے۔ ٹاملناڈو میں 54 کیلو میٹر جبکہ کیرالا میں 28 کیلو میٹر میٹرو ریل پراجکٹ پر کامیابی سے عمل آوری جاری ہے۔ گجرات میں میٹرو نیٹ ورک کے تحت 60 کیلو میٹر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ آندھراپردیش چونکہ نئی ریاست ہے لہذا دارالحکومت امراوتی کے تعین میں تاخیر کے سبب میٹرو پراجکٹ کا آغاز نہیں کیا جاسکا۔ مرکزی حکومت نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعہ امراوتی کو آندھراپردیش کے مستقل دارالحکومت کا درجہ دیا ہے۔ مغربی بنگال میں 58 کیلو میٹر علاقہ کو میٹرو پراجکٹ کے تحت توسیع دی گئی۔ جن ریاستوں میں ابھی نیٹ ورک کا آغاز باقی ہے اُن میں بہار، جھارکھنڈ، پنجاب، اتراکھنڈ، ہریانہ، آسام، جموں و کشمیر، پڈوچیری اور گوا شامل ہیں۔V/1/m/b