منوگوڑ انتخابی مہم پر چیف منسٹر کی نظر، قائدین سے ربط

   

بی جے پی کو روکنا بنیادی مقصد، سروے میں کانگریس کو دوسرے مقام کی پیش قیاسی

حیدرآباد۔/25 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے منوگوڑ ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کی انتخابی مہم پر اطمینان کا اظہار کیا اور مہم کے آخری دنوں میں رائے دہندوں سے رابطہ کی مہم میں تیزی پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔ دیپاولی تہوار کے باوجود ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں نے منوگوڑ میں انتخابی مہم کو جاری رکھا ۔ چیف منسٹر ہر منڈل میں مصروف ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی و کونسل کی مہم پر شخصی طور پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور روزانہ کی اساس پر رپورٹ طلب کی جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے مہم میں مصروف قائدین سے ربط قائم کرتے ہوئے نہ صرف دیپاولی کی مبارکباد پیش کی بلکہ مہم کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔ چیف منسٹر کی انتخابی مہم میں شرکت کے پروگرام کو قطعیت دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ مہم کے آخری دنوں میں باقاعدہ روڈ شو کا اہتمام کریں گے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے مہم میں مصروف قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس میں شمولیت کیلئے بی جے پی کے اہم و سرکردہ قائدین سے ربط قائم کریں تاکہ منوگوڑ میں بی جے پی کی مہم کو کمزور کیا جاسکے۔ آپریشن آکرش کے تحت کئی بی جے پی قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو دوسرا مقام بھی حاصل نہ ہو۔ حضورآباد اور دوباک میں بی جے پی کو ضمنی چناؤ میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ ناگرجنا ساگر میں برسراقتدار پارٹی کو کامیابی ملی۔ ریاست میں عام انتخابات سے قبل یہ آخری ضمنی چناؤ سمجھا جارہا ہے۔ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کو بی جے پی نے کانگریس سے شامل کرتے ہوئے امیدوار کے طور پر میدان میں اُتارا لیکن انتخابی مہم کے دوران رائے دہندوں کے منفی ردعمل کے نتیجہ میں بی جے پی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس اور ٹی آر ایس نے ضمنی چناؤ میں اپنی طاقت جھونک دی ہے اور دونوں کو اپنی کامیابی کا یقین ہے۔ اسی دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں ٹی آر ایس کو کانگریس پر تقریباً 12 فیصد کی برتری دکھائی گئی ہے اسی بنیاد پر کے سی آر نے کانگریس کی اس نشست کو بی جے پی کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے اور اسے اپنے قبضہ میں لینے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ر