7 25 ہزار سے زائد رائے دہندے گریٹر حیدرآباد میں قیام پذیر، پول مینجمنٹ میں ٹی آر ایس دوسروں سے آگے
7 اسمبلی حلقہ ایل بی نگر میں 8500 رائے دہندے، شہر کے ہوٹلوں میں دعوتیں، روز مرہ کی ضرورتوں کے انتظامات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) اسمبلی حلقہ منو گوڑ کے ضمنی انتخاب میں کسی بھی جماعت کی کامیابی یا شکست کا دارومدار حیدرآباد پر ہے کیونکہ حلقہ اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے 25 ہزار سے زیادہ رائے دہندے بچوں کی تعلیم ، روزگار یا کسی اور وجہ سے گریٹر حیدرآباد میں قیام کئے ہوئے ہیں۔ ایک گاؤں کے 200 سے زائد افراد شہر میں مقیم ہیں۔ سب سے زیادہ اسمبلی حلقہ ایل بی نگر میں 8500 سے زائد ووٹرس موجود ہیں ۔ ٹی آر ایس پارٹی نے کتنے رائے دہندے کہاں مقیم ہیں ، ا یک ماہ قبل ہی اس کا بلیو پرنٹ تیار کرلیا ہے اور شہر کی نمائندگی کرنے والے چند ارکان اسمبلی کے حوالے کرتے ہوئے انہیں خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ۔ رائے دہی کے دن ان رائے دہندوں کو منوگوڑ منتقل کرنے کی نگرانی کے ٹی آر کر رہے ہیں۔ اسمبلی حلقہ منوگوڑ تلنگانہ کے صدر مقام حیدرآباد سے قریب ہونے کے باوجود توقع کے مطابق ترقی نہیں کر پایا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ روزگار کیلئے حیدرآباد منتقل ہوئے ہیں۔ بچوں کی معیاری تعلیم کیلئے والدین حیدرآباد میں رہ کر اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں جملہ ووٹوں کی تعداد 2.40 لاکھ ہے ، ان میں 15 تا 17 فیصد رائے دہندے دوسرے مقامات پر رہتے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں 25 ہزار سے زائد رائے دہندے قیام پذیر ہیں ۔ اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں نئے تشکیل دیئے گئے گٹو اپل منڈل کے تیرت پلی گرام پنچایت کے حدود میں 2211 ووٹ ہیں، ان میں 520 رائے دہندے حیدرآباد میں ہیں ۔ سنتھان نارائن پورم منڈل کے پوٹا پاکا گاؤں میں 3751 رائے دہندے ہیں جن میں 600 رائے دہندے شہر میں ہیں ۔ چوٹ اپل منڈل کے نیٹا پٹلہ گاؤں میں 1298 رائے دہندے ہیں، ان میں 190 رائے دہندے حیدرآباد میں مقیم ہیں ۔ اس طرح اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے ہر ایک گرام پنچایت کے حدود سے 200 تا 600 رائے دہندے گریٹر حیدرآباد میں مقیم ہیں ۔ صرف اسمبلی حلقہ ایل بی نگر میں ہی 8500 رائے دہندے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ رائے دہندے ایل بی نگر ، سرور نگر ، دلسکھ نگر، اپل ، حیات نگر ، پدا عنبرپیٹ ، بی این ریڈی نگر ، ونستھلی پورم ، کرمن گھاٹ ، رامنتا پور ، عنبر پیٹ ، بوڈ اپل کے دیگر علاقوں کو اپنا ٹھکانہ بناچکے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں قیام پذیر اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے رائے دہندے یہاں کے مقامی اداروں کے انتخابات میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی میں اثر انداز ہورہے ہیں ۔ فی الحال ضمنی انتخاب کے پیش نظر ان کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہورہے ہیں۔ تینوں جماعتوں کی جانب سے گاؤںکی سطح پر حیدرآباد میں رہنے والے رائے دہندوں کی فہرست تیار کی گئی ہے ۔ رائے دہندوں کے فون نمبرات اور ان کے مقام کا پتہ چلایا جارہا ہے ۔ گاؤں کے ذمہ دار ذی اثر قائدین کو ان کے ووٹ حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جنہیں ذمہ داری دی گئی ہے ۔ وہ حیدرآباد کے مختلف ہوٹلوں میں قیام کرتے ہوئے روزانہ رائے دہندوں سے ملاقات کر رہے ہیں اور دوسرے رائے دہندوں کے مقام کی تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ان کی معلومات حاصل ہوجانے کے بعد شہر کی ہوٹلوں میں مرحلہ واری سطح پر ان کے اجلاس اوردعوتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ اس معاملہ میں ٹی آر ایس فی الحال سب سے آگے ہے۔ کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی کی جانب سے کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کی اطلاعات منظر عام پر آتے ہی ٹی آر ایس نے شہر میں موجود اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے حیدرآباد میں مقیم رائے دہندوں کی نشاندہی کا آغاز کردیا گیا ہے اور 25 ہزار ووٹ ٹی آر ایس کے حق میں ڈالنے کی خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کیا جارہا ہے ۔ ٹی آر ایس نے رائے دہندوں کا جو بلیو پرنٹ تیار کیا ہے ، اس میں شہر کے 16 کمپنیوں میں کام کرنے والے زیادہ سے زیادہ ووٹرس ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس طرح 100 رائے دہندوں کا ایک بیاچ تیار کرنے کی اطلاعات ہیں، اس کے لئے ایک قائد کو ذمہ داری دی گئی ہے ۔ ان 100 ووٹرس کی روزانہ کی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے خصوصی انتظامات کرنے کی اطلاعات ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹی آر ایس نے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتوں کے ووٹوں کو حاصل کرنے کیلئے خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے اور ان طبقات کی نمائندگی کرنے والے پارٹی کے مقامی قائدین کو ان کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ن