چیف منسٹر کے سی آر کی قائدین سے مشاورت ، حیدرآباد اور ممبئی میں مقیم رائے دہندوں کی حلقہ میں منتقلی کیلئے مختلف پیشکش
حیدرآباد۔/26 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس نے منوگوڑ میں 95 فیصد رائے دہی کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور پارٹی کو یقین ہے کہ زیادہ سے زیادہ پولنگ کا فائدہ اس کے امیدوار کو حاصل ہوگا۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے کرائے گئے مختلف سروے رپورٹس میں یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ ٹی آر ایس کو اگر کامیاب ہونا ہے تو اسے رائے دہی کے فیصد کو بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی۔ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کو رپورٹ کا خلاصہ روانہ کرتے ہوئے بوتھ سطح پر متحرک ہونے کی ہدایت دی ہے تاکہ ہر بوتھ پر کم از کم 90 فیصد رائے دہی ہو اور مجموعی رائے دہی 95 فیصد سے زائد درج کی جائے۔ پارٹی نے ہر رائے دہندہ کو بوتھ تک پہنچانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔2018 اسمبلی انتخابات میں منوگوڑ میں 91 فیصد پولنگ درج کی گئی تھی اور اس بار اگر رائے دہی کا فیصد 95 سے تجاوز کرتا ہے تو فائدہ ٹی آر ایس کو ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سینئر پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس میں کہا کہ کسی بھی رائے دہندہ کو ووٹنگ سے محروم نہ رکھا جائے۔ پارٹی ارکان اسمبلی کو ہدایت دی گئی ہے کہ ابراہیم پٹنم، ایل بی نگر، مہیشورم، اوپل اور عنبرپیٹ اسمبلی حلقہ جات میں بسنے والے 50 ہزار رائے دہندوں کو منوگوڑ منتقل کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ پارٹی نے 38 ہزار ایسے رائے دہندوں کی نشاندہی کی ہے جو زندگی بسر کرنے کیلئے حیدرآباد منتقل ہوچکے ہیں۔ ایسے رائے دہندوں کے ایڈریس اور فون نمبرات حاصل کرتے ہوئے ربط قائم کیا جارہا ہے۔ اس کام کیلئے ارکان اسمبلی ڈی سدھیر ریڈی، سبیتا اندرا ریڈی، ایم کشن ریڈی، بی سبھاش ریڈی اور کے وینکٹیش کو متحرک کردیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹی آر ایس قائدین نے شہر میں قیام کرنے والے منوگوڑ کے رائے دہندوں کی منتقلی کیلئے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ٹی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی امیدواروں کی جانب سے منوگوڑ کے مختلف علاقوں میں فنکشن ہالس حاصل کرتے ہوئے دعوتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ممبئی، سورت اور ملک کے دیگر علاقوں میں بسنے والے 10 ہزار افراد کی نشاندہی کی گئی جن کا تعلق منوگوڑ سے ہے انہیں ٹی آر ایس کی جانب سے مفت فلائیٹ ٹکٹ یا اے سی ٹرین ٹکٹ کا وعدہ کیا جارہا ہے۔ ر