منوگوڑ نتیجہ کے بعد ریونت ریڈی کی مشکلات میں اضافہ

   


مخالف قائدین سرگرم، انداز کارکردگی پر ہائی کمان سے شکایت کی تیاری
حیدرآباد ۔7 ۔ نومبر (سیاست نیوز) منوگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کے ناقص مظاہرہ سے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران تلنگانہ میں راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے باوجود کانگریس امیدوار پی شراونتی کی ضمانت نہیں بچ سکی۔ ریونت ریڈی جو پردیش کانگریس کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے ناراض قائدین کی تنقیدوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ منوگوڑ کے انتخابی مہم کے دوران راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے سلسلہ میں مانکیم ٹیگور ، جئے رام رمیش ، کے سی وینو گوپال اور ڈگ وجئے سنگھ جیسے سینئر قائدین تلنگانہ میں موجود رہے اور ریونت ریڈی نے انہیں انتخابی مہم کی تفصیلات سے واقف کرایا ۔ نتیجہ کے اعلان کے بعد مخالف ریونت ریڈی گروپ دوبارہ سرگرم ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی کے اندازہ کارکردگی کے بارے میں اعلیٰ کمان سے شکایت کی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے انتخابی مہم میں شخصی طور پر کئی مرتبہ حصہ لیا لیکن نتائج چونکا دینے والے رہے۔ ریونت ریڈی نے نتیجہ پر تبصرہ میں کہا کہ انتخابات میں ہار اور جیت کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ نتیجہ سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ پارٹی کیڈر نے پوری سنجیدگی اور محنت کے ساتھ مہم چلائی ۔ منوگوڑ میں لالچ کی پرواہ کئے بغیر کارکنوں ، قائدین اور ہمدردوں نے جس انداز میں کام کیا، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دوسری طرف مخالف ریونت گروپ کا کہنا ہے کہ جون 2021 ء میں صدارتی کی سنبھالنے کے بعد ضمنی چناؤ میں کانگریس کی یہ دوسری شکست ہے ۔ حضور آباد میں کمزور مظاہرہ کے بعد کانگریس کو اپنے مضبوط گڑھ منوگوڑ میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ریونت ریڈی نے یکطرفہ کام کرنے اور سینئر قائدین کو نظر انداز کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔ ریونت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بھارت جوڑو یاترا سے صدر پردیش کانگریس کا غیر حاضر رہنا ممکن نہیں تھا ، لہذا انتخابی مہم پر پوری توجہ نہیں دی جاسکی۔ ر