بٹنگ روکنے کے لیے پولیس چوکس، زیادہ تر بولی ٹی آر ایس اور کانگریس کے حق میں
حیدرآباد۔/26 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) منوگوڑ اسمبلی حلقہ کا ضمنی چناؤ ایک طرف تین سیاسی پارٹیوں کیلئے وقار کا الیکشن بن چکا ہے تو دوسری طرف الیکشن کی اہمیت کے پیش نظر نتیجہ کے بارے میں بٹنگ کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ آئی پی ایل میاچس کی طرح ضمنی چناؤ کے نتیجہ کے بارے میں بٹنگ لگائی جارہی ہے اور اس سلسلہ میں حیدرآباد اور ریاست کے دیگر علاقوں میں بکیز مصروف بتائے گئے ہیں۔ ٹی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اس نشست کیلئے سخت مقابلہ ہے۔ رائے دہندوں کو راغب کرنے کیلئے شراب اور دولت کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں بکیز کو بٹنگ کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے کا موقع مل چکا ہے۔ منوگوڑ کے چناوی نتیجہ کو آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے اور ریاست کی سیاست میں یہ نتیجہ اہمیت کا حامل رہے گا۔ کانگریس سے استعفی دے کر کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے بی جے پی کا دامن تھام لیا لہذا کانگریس اور بی جے پی دونوں اس نشست کیلئے اپنی طاقت جھونک چکے ہیں۔ تلنگانہ میں ضمنی چناؤ کی تاریخ میں بی جے پی کو ٹی آر ایس پر سبقت حاصل ہے لہذا بی جے پی نے راجگوپال ریڈی کی امیدواری کے ذریعہ منوگوڑ اسمبلی حلقہ پر قبضہ جمانے کی تیاری کرلی ہے۔ 2018 کے بعد تلنگانہ میں 4 اسمبلی حلقہ جات کے ضمنی چناؤ ہوئے جن میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کو علی الترتیب 2 ،2 نشستیں حاصل ہوئیں۔ چناؤ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے بکیز نے بٹنگ حاصل کرنا شروع کردیا ہے اور کروڑہا روپئے داؤ پر لگائے گئے ہیں۔ منوگوڑ کے علاوہ چوٹ اوپل، نامپلی، ایل بی نگر، ابراہیم پٹنم اور حیدرآباد کے بعض علاقوں میں ایجنٹس سرگرم ہیں۔ ہر امیدوار کیلئے ایک طرح کی بولی لگائی جارہی ہے۔ بٹنگ کی اطلاع ملنے پر پولیس نے بھی چوکسی اختیار کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر پیسہ ٹی آر ایس امیدوار کے حق میں لگایا جارہا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر کانگریس پارٹی ہے۔ کوٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کی کامیابی کے حق میں بہت کم بٹنگ لگائی گئی۔ پولیس نے مخبروں کے ذریعہ بٹنگ مراکز کی تفصیلات حاصل کرنا شروع کردیا ہے۔ واضح رہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد سے منوگوڑ اسمبلی حلقہ میں تقریباً 3 کروڑ روپئے ضبط کئے گئے جو غیر قانونی طور پر منتقل کئے جارہے تھے۔ر