سوراخ سے آکسیجن، پائپ سے کھاناپہنچایا جارہا ہے‘چیف منسٹردھامی کا جائزہ
اترکاشی: اتراکھنڈ میں اتوار کی صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ برہماکھل۔یمونوتری قومی شاہراہ پر سلکیارا سے دنڈالگاؤں کے درمیان زیر تعمیر سرنگ کا ایک حصہ صبح سویرے اچانک ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے اس میں کام کرنے والے تقریباً 40 مزدور اندر پھنس گئے۔ حادثے کو 24 گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، 60 میٹر ملبہ کٹ چکا ہے اور 30تا35 میٹر ملبہ باقی ہے۔میڈیا کے مطابق سلکیارا ٹنل میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے ملبہ ہٹانے کا کام مسلسل جاری ہے۔پولیس نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس ، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور پولیس اہلکار بچاؤ میں مصروف ہیں۔ ٹنل میں پھنسے مزدوروں سے واکی ٹاکی کے ذریعے رابطہ کیا گیا ہے۔ فی الحال تمام کارکن محفوظ بتائے جاتے ہیں۔ ٹنل میں پانی کی سپلائی کے لیے بچھائی گئی پائپ لائن کے ذریعے آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے کمپریسر کے ذریعے پریشر بنا کر رات کے وقت سرنگ میں پھنسے مزدوروں تک چنے کے پیکٹ بھیجے گئے ہیں۔جن ریاستوں کے کارکن سرنگ میں پھنسے ہیں ان میں بہار سے 4، اتراکھنڈ سے 2، بنگال سے 3، یوپی سے 8، اڑیسہ سے 5، جھارکھنڈ سے 15، آسام سے 2 اور ہماچل پردیش سے ایک کا تعلق ہے۔ متاثرین کا فاصلہ تقریباً 60 میٹر بتایا جاتا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ تقریباً 160 امدادی کارکن ڈرلنگ آلات اور کھدائی کرنے والوں کی مدد سے پھنسے ہوئے مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے روہیلا سے صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بات کی اور انہیں ریسکیو آپریشن تیز کرنے کیلئے کہا۔