محمد ریاض احمد
ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں گزشتہ 12 برسوں سے جو کچھ ہورہا ہے اس بارے میں سب جانتے ہیں ۔ خاص طور پر مودی جی کے وعدوں اور دعوؤں کے بارے میں عوام بالخصوص نوجوان اچھی طرح جان چکے ہیں ۔ ان کے خیال میں مودی جی نے 2014 کے عام انتخابات کی انتخابی مہم میں جتنے وعدے کئے وہ وفا نہ ہوسکے اور اقتدار میں آنے کے بعد جو دعوے کئے وہ کھوکھلے ثابت ہوئے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی ان کی بہن پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن قائدین نے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ مودی جی اور ان کے بھکتوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ناکامی کیلئے خود کو ذمہ دار قرار دینے کی بجائے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ذمہ دار قرار دینے لگتے ہیں اور کانگریس یا یو پی اے حکومت کے ہر اچھے قدم کی مخالفت میں تمام سرحدیں عبور کردیتے ہیں، مثال کے طورپر نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ یا چیف منسٹر تھے تب انہوں نے جی ایس ٹی کی شدت سے مخالفت کی تھی اور ایک بحیثیت ملک کے وزیراعظم مودی، جی ایس ٹی کا خیرمقدم کرنے لگے ہیں ۔ مودی جی نے چیف منسٹر گجرات کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے لوک پال کا خیر مقدم کیا تھا لیکن وزیراعظم بننے کے بعد مودی نے لوک پال کو نظر انداز کردیا ۔ اس طرح مودی نے چیف منسٹر رہتے ہوئے بیرونی راست سرمایہ کاری کی مخالفت کی تھی اور عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے ساتھ ہی انہوں نے بیرونی راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی تائید و حمایت شروع کردی۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ مودی جی چیف منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے آدھار کارڈ کی مخالفت پر اتر آئے تھے لیکن وزیراعظم کے طور پر انہوں نے آدھار کارڈ کا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ اسے بینک اکاؤنٹ ووٹر شناختی کارڈ اور دوسری اہم دستاویزات سے جوڑنے یا منسلک کرنے کو یقینی بنایا۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے حکومت نے دیہی علاقوں میں بیروزگاری دور کرنے MGNREGA شروع کیا اور منریگا سے دیہی علاقوں کے بیروزگار مرد و خواتین کو کافی فائدہ ہوا لیکن گجرات کے عہدہ چیف منسٹری پر فائز رہتے ہوئے مودی جی نے منریگا کی مخالفت کو اولین ترجیح دی لیکن وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہوتے ہی MGNREGA کی تائید و حمایت کی ۔ سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی جیسے کانگریسی قائدین نے فوائد کی راست منتقلی یعنی Direct Benefit Transler اسکیم کی پرزور تائید و حمایت کرتے ہوئے اسے نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اس پر کامیابی سے عمل آوری بھی کی لیکن جس وقت مودی چیف منسٹر تھے انہوں نے DBT ڈائرکٹر بینیفٹ ٹرانسفر کی مخالفت کی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ اسی اسکیم کا خیرمقدم کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 65-72 روپئے فی لیٹر ہوا کرتی تھی اگر پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں ایک دو روپئے اضافہ کیا جاتا تو مودی اسے کانگریس حکومت کی بڑی ناکامی سے تعبیر کرتے لیکن آج خود ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں پٹرول کی قیمت 115 اور ڈیزل کی قیمت 103ہے اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے باوجود مودی جی بے بس و مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ وہ شائد سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ کریں تو کیا کریں۔ مودی جی کے قول و فعل میں یعنی کہنے اور کرنے میں کتنا تضاد ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیف منسٹر کی حیثیت سے انہوں نے قومی مجموعی پیداوار GDP کی کم شرح نمو پر تنقید کرتے رہے اور بحیثیت وزیراعظم جی ڈی پی کی کم شرح نمو ان کیلئے فکرمندی کی بات نہیں۔تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق ہندوستان کا 77 فیصد سونا اس کے اپنے ملکی ذخائر میں جمع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیرونی ملکوں میں رکھا گیا 77 فیصد سونا ملک واپس لایا گیا ہے ۔ اگر پچھلے دو سال کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں بھی کم از کم 110 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی بڑے فخریہ انداز میں سب کا ساتھ سب کا وکاس ، سب کا وشواس کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ طلباء جہدکار عمر خالد اور شرجیل امام ، برسوں سے جیلوں میں قید و بند کی صعوبیتں برداشت کر رہے ہیں۔ 13 ستمبر کو قید میں عمر خالد کے 6 سال پورے ہوگئے ۔ اس طرح اپنی عمر کے 39 سال میں سے 6 قیمتی سال انہوں نے جیل میں گزار دیئے، باالفاظ دیگر متعصب جائیداد اور امتیاز برتنے والی طاقتوں نے ان سے ان کی زندگی کے 6 سال چھین لئے ہیں۔ اس بارے میں ملک و بیرون ملک کے ماہرین قانون اور حقوق انسانی کی تنظیموں و جہدکاروں نے مودی حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے موقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے تین ہفتوں کی عبوری ضمانت دے دی لیکن افسوس صد افسوس کہ عمر خالد اور شرجیل امام جیسے طلبہ جہدکار 6 برسوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ ان کی درخواست ضمانت بار بار مسترد کی جارہی ہے ؟ عوام اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا فیصلے مذہب کی بنیاد پر کئے جارہے ہیں۔ ملک کے مشہور و معروف قانون داں پرشانت بھوشن کا پر زور انداز میں کہنا ہے کہ یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دہلی پولیس پہلے تو بھردواج کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا ہی نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی وہ اسے گرفتار کرنے کی خواہاں تھی ، اس نے سواتنتر بھردواج کی درخواست ضمانت کی سنجیدگی سے مخالفت نہیں کی ، اب تو اسے منتقل ضمانت دینے پر بھی غور ہورہا ہے ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ملک کی جیلوں میں ایسے نوجوان بھی ہیں جو پچھلے 17 برسوں سے جیلوں میں بند ہیں (وہ بھی جھوٹ کی بنیاد پر) آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 2014-2026 انکاونٹرس کے 18000 واقعات پیش آچکے ہیں جبکہ 2016-2024 بلڈوزر چلانے کے 10620 واقعات پیش آئے ہیں ۔ آسام میں 3600 تا 4000 آسامیوں کو ان کے مکانات سے بیدخل کیا گیا اور ان کے مکانات منہدم کئے گئے ۔ 17000 کو بنگلہ دیشی قرار دییا گیا ۔ ان میں سے بعض سپریم کورٹ کی رولنگ کے بعد واپس ہوئے۔ اب چلتے ہیں مغربی بنگال کی خاتون آئی پی ایس عہدیدار بشریٰ بانو کی طرف جن کا تبادلہ صرف اس لئے کردیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے مادر علمی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے کچھ طلبہ سے خطاب کی شروعات السلام وعلیکم سے کی۔ تقریر میں انشاء اللہ ماشااللہ کہا، جزاک اللہ کے ساتھ خطاب کا اختتام عمل میں لایا ، حالانکہ وہ کوئی سرکاری تقریب نہیں تھی ۔ ہندوتوا تنظیموں نے اس کے خلاف آن لائین مہم چلائی جبکہ امیت شاہ اور بی جے پی کے کئی وزراء ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے اہم دستوری عہدوں پر فائز رہتے ہوئے جے ایس آر اور دوسرے مذہبی نعرے بلند کرتے ہیں۔ آپ اور ہم نے کئی پولیس عہدیداروں کو ہندو مذہبی رہنماؤں کے آگے جھکتے ، ان کے پیر چھوتے اور ان سے آشیرواد لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ کانگریس کے عمران پرتاپ گڑھی نے اس واقعہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ کیسا ہندوستان بنارہے ہیں ، نریندر مودی جی اور آئی پی ایس اسوسی ایشن کیا آپ دیکھ رہے ہیں؟ بہرحال ہمارے ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کی کسرت میں وحدت اور گنگا جمنی تہذیب ہے ۔ ایسے ہندو بھائیوں اور بہنوں کی کوئی کمی نہیں جو آر ایس ایس بی جے پی بجرنگ دل ، وشوا ہندو پریشد اور اے بی وی پی کی مذمت کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ حال ہی میں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی بنگلورو میں عمر خالد پر دستاویزی فلم کی مخالفت پر ABVP کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے خیال میں اے بی وی پی گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی تعریف و ستائش کرتی ہے ۔ اس کی پوجا کرتی ہے ، اس کے برعکس عمر خالد ایک سچے قوم پرست ہیں ، ایسے میں اے بی وی پی کو عمر خالد کے خلاف بکواس کرنے کا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔