جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا قیام، ٹی آر ایس اور ٹریڈ یونین تنظیموں کے قائدین کی شرکت
حیدرآباد۔/2 جنوری، ( سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے عوامی شعبہ کے اداروں کو خانگیانے کے خلاف ملازمین نے متحدہ جدوجہد کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے۔ مختلف ٹریڈ یونینوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا حیدرآباد میں اجلاس منعقد ہوا جس میں بی ایس این ایل، ایل آئی سی، بی ڈی ایل، ایچ اے ایل، بی ایچ ای ایل، ریلویز، ایچ ایم ٹی، پراگا ٹولس، مدھانی، ای سی آئی ایل، ڈی ایل آر ایل اور مختلف بینکوں کے ملازمین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مرکزی حکومت نے قومی سطح کے شعبہ جات کو کارپوریٹ اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں مرکز کی پالیسی کی مخالفت کی گئی اور قائدین نے کہا کہ نریندر مودی ’ میک اِن انڈیا ‘ کا نعرہ لگارہے ہیں لیکن وہ ’ سیل اِن انڈیا ‘ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہندوستان کے تحفظ کیلئے عوامی شعبہ کے اداروں کا تحفظ ضروری ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے عنقریب احتجاجی لائحہ عمل کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین بی ونود کمار نے صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونینوں کے احتجاج کو ٹی آر ایس کی تائید حاصل ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ مودی حکومت کے رویہ سے ایس سی، ایس ٹی اور پسماندہ طبقات روزگار اور تحفظات سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعبہ کے اداروں کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک ایجی ٹیشن کیا جاسکتا ہے اور ملازمین نے بھرپور حصہ لینے کا اعلان کیا۔ مرکزی حکومت کے خلاف قومی سطح پر جدوجہد کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خانگیانے کے ذریعہ چند مخصوص کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مدھانی، بی ڈی ایل اور آرڈیننس فیکٹری جیسے اداروں میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور دیگر سائنسدانوں نے ریسرچ کا کام انجام دیا تھا لیکن ان اداروں کو مرکز فروخت کرنا چاہتا ہے۔ ایل آئی سی کو خانگیانے کے ذریعہ لاکھوں افراد کو بیروزگار کردیا جائے گا۔ بینکوں کے خانگیانے کی مخالفت کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عوامی شعبہ کے بینکس ملک کے مفاد میں ہیں۔ اجلاس میں ٹی آر ایس لیبر سیل کے علاوہ ٹریڈ یونین قائدین رام بابو یادو، روپ سنگھ، راجہ رام یادو، ستویندر سنگھ، ڈی کے چاری، یادو ریڈی، وینکٹیشورلو، بھاسکر ریڈی، سرینواس گوڑ اور دوسروں نے شرکت کی۔ر