مودی ۔ شاہ کا بنایا نظام کلیدی مقصد کے حصول تک رہے گا جاری

   

پی رمن
ملک میں اکثر اس بات پر بحث ہونے لگی ہے کہ آخر کب تک مودی اور امیت شاہ کا بنایا ہوا نظام برقرار رہے گا ۔ اس بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مودی ۔ امیت شاہ جوڑی کا بنایا ہوا نظام اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک وہ ایک اہم بلکہ کلیدی مقصد حاصل نہیں کرلیتے ۔ بہرحال آپ سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی عمر 75 سال سے تجاوز کرگئی ہے وہ اپنی عمر کی 75 بہاریں دیکھ چکے ہیں اور ستمبر 2026 ء میں وہ اپنی عمر کے 76 سال پورے کرلیں گے ۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مودی جی مکمل آمرانہ اختیارات کو مضبوطی سے قائم کرنے کیلئے بے چین و بیتاب نظر آتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے ایک ہمہ جہتی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ اس حکومت کا ہر قدم اور ہر نئی پالیسی اسی مقصد کے حصول کی طرف آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے ۔ (واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ ، اسپیکر لوک سبھا اوم برلا اور مرکزی وزیر پیوش گوئل نے 23 جون 2026 ء کو نئی دہلی کے راشٹرپتی بھون میں دوسری سول انویٹیم تقریب میں شرکت کی ) ماہ جون میں دو اہم سرکاری تقاریب دیکھنے کا موقع ملا ۔ پہلی تقریب 51 سال قبل نافذ کی گئی ایمرجنسی کی یاد میں تھی جسے سرکاری طورپر ’’سویدھان ہتیا دیوس‘‘ یا ’’دستور کا یوم قتل ‘‘کے نام سے منائی گئی اور دوسری تقریب نریندر مودی اقتدار کے 12 سال کی تکمیل کے خوشی میں منائی گئی ۔
آپ کو یہ بھی بتادیں کہ ہمارے ملک میں ایمرجنسی 21 ماہ تک جاری رہی اور اس کے بعد قائم ہونے والی جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق اس کے زیادہ تر اثرات ختم کردیئے تھے ۔ موجودہ مودی حکومت کے دور میں ادارہ جاتی نقصان زیادہ وسیع اور گہرا ہوا ہے ۔ مصنف کے مطابق موجودہ حکومت نے کسی پشیمانی کا اظہار کرنے کی بجائے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کو مزید وسعت دے گی ۔ اگر ہم بی جے پی کی قومی عاملہ کاجائزہ لیتے ہیں پتہ چلتا ہے کہ اس میں بھی کہنہ مشق اور بزرگ قائدین کو مودی کے بڑے بڑے دعوے اور وعدوں کے ساتھ ساتھ پارٹی صدر کی ہدایا ت کی سماعت تک محدود کردیا گیا ہے۔ پارٹی سربراہ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بی جے پی دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے ۔ پارٹی کے سینئر و بزرگ قائدین کو یہ ہدایات دینے لگے ہیں کہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں لوگوں کو سمجھائیں ۔ اب پارٹی میں پرانے دور کی سنٹرل الیکشن کمیٹی کے ارکان کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہی ۔ فی الوقت اُن کا کام بس یہی رہ گیا ہے کہ وہ امیت شاہ کے ماہرین کی ٹیم جو پروگرامس پیش کرتی ہے اُن پروگرامس کی بلا چوں و چراں تصدیق کریں اور جہاں تک پارٹی اور حکومت میں غیرضروری مباحث کا سوال ہے یہ اصل میں کانگریس کا کلچر ہے اور اس طرح کا کلچر بی جے پی کو نقصان پہنچائے گا ۔ چنانچہ بی جے پی ورکر کا یہی فرض ہے کہ بناء کوئی سوال کئے پارٹی قیادت اُنھیں جو ذمہ داری تفویض کرتی ہے اُسے نبھائیں، قیادت کے ہر حکم کی تعمیل کریں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکمراں جماعت فی الوقت اپوزیشن جماعتوں کے منحرفین کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے اور یہ رجحان دن بہ دن مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے ۔ ویسے بھی ہر سیاسی تاریخ میں ہر اُبھرتی ہوئی طاقت اس قسم کے رجحان سے محظوظ ہوتی ہے۔ اکثر سنڈیکٹ لیڈران یہاں تک کہ سوشلسٹ رہنما بھی 1971 ء کے لوک سبھا انتخابات میں اندرا کانگریس کی کامیابی کے بعد بڑی تیزی کے ساتھ اُس کی طرف مائل ہونے لگے ۔
ایسے میں بناء کسی جھجھک کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب تک مودی ۔ شاہ دونوں کی جوڑی پارٹی کو اقتدار میں برقرار رکھے گی تب تک بی جے پی دوسری سیاسی جماعتوں سے انحراف کرنے والوں کیلئے پرکشش رہے گی اور یاد رکھئے جب یہ جوڑی کمزور پڑ جائے گی نیند میں محو ہوجائے گی یعنی غفلت کا شکار ہوگی تب ہر چیز ڈرامائی طورپر تبدیل ہوجائے گی ۔ اس بارے میں کرناٹک کے بی جے پی ارکان اسمبلی کی جانب سے کی گئی حالیہ کراس ووٹنگ بہترین مثال ہے ۔ اس بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی لحاظ سے طاقتور سمجھے جانے والے امیت شاہ کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ ہر طاقتور لیڈر ہمیشہ طاقتور نہیں رہتا ۔ ہر حکمراں ہمیشہ اقتدار پر فائز نہیں رہتا ۔ آج مودی اور امیت شاہ عروج پر ہیں کل ہوسکتا ہے کہ زوال کاشکار ہوجائیں۔
آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر شہریوں کی سطح پر دیکھا جائے تو مودی ۔ شاہ کے طویل اقتدار ( 12 سالہ دور اقتدار ) میں ہم شہری گونگے اور بہرے ہوگئے ہیں۔ ہم میں حکمرانوں سے سوال کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے ۔ ہم قوت گویائی سے محروم نسل میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ ایسی نسل جو شہری حقوق کیلئے احتجاجی مظاہروں کے کلچر کو پوری طرح بھلادیا ہے ۔ حال ہی میں ایک کالم نگار نے عوامی ناراضگی کی موت کو کئی ایک عوامل کے ساتھ سوشل میڈیا کی مقبولیت کو ذمہ دار قرار دیا۔ اُس نے سوال کیا کہ اگر لاکھوں لوگوں نے میرا پوسٹ دیکھا ہے تو مجھے سڑکوں پر کیوں ہونا چاہئے ؟
آپ خود غور کیجئے کہ مودی کے اقتدار پر فائز ہونے سے پہلے ہمارے ملک میں مسلسل عوامی احتجاجی مظاہرے ہوا کرتے تھے اور ایک ایک وقت ایسا بھی ہوا جب ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں احتجاجی ہفتوں تک سڑکوں پر ہوتے ۔ اس ضمن میں ہم سال 2011 ء کے اینٹی کرپشن موومنٹ ، تحفظات مخالف احتجاج ، نربھئے کیس کے سلسلہ میں عوام کا ہفتوں تک احتجاج جاری رہنے اور چیکو ( جنگلات کے کٹاؤ کے خلاف شروع کردہ تحریک ) کی مثالیں پیش کرسکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت انفارمیشن کنٹرول ، پولیٹکل منیجمنٹ اور کئی دوسرے طریقوں سے عوامی ناراضگی کو اس کی حد تک رکھنے میں کامیاب رہی ، ہر کوئی اس بات کو لیکر حیرت میں مبتلا ہے کہ آخر مودی حکومت کس طرح ناراض آوازوں پر اُن کے احتجاجی مظاہروں پر بآسانی قابو پالیتی ہے ۔ سمجھنے کیلئے کہ آخر یہ کیسے ہورہا ہے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کے اس بیان کو پڑھتے جائیے جس میں وہ کہتے ہیں ’’میں جانتا ہوں کہ ایودھیا کی رام مندر میں کیا ہورہا ہے لیکن میں سچ کا اظہار کردوں تو پھر میں مشکل میں آجاؤں گا ۔ فی الوقت مجھ میں سچ بولنے کی ہمت نہیں ہے۔ اگر وقت آئے گا تو میں سچ اُگل دوں گا ‘‘ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی قیادت نے کس طرح اپنے کارکنوں اور قائدین پر ڈسپلن کا شکنجہ کس کر رکھا ہے ۔
اگر ہم مغربی بنگال میں بی جے پی کے اقتدار پر آنے کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مایاوتی یا پھر بی آر ایس سربراہ کے چندرشیکھر راؤ کی طرح ممتا بنرجی میدان چھوڑکر فرار نہیں ہوئیں ۔ وہ ہنوز میدان میں ڈٹی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے آج مخالفین بھی ممتا بنرجی کی ہمت اور اُن کے حوصلے کے متعارف ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مغربی بنگال فتح کرنے کے بعد بھی امیت شاہ آرام کرنے والے نہیں ہیں بلکہ وہ پارلیمنٹ میں بی جے پی کو دو تہائی اکثریت دلانے کی خاطر اپوزیشن جماعتوں کو توڑنے ، اُن کے ارکان پارلیمنٹ کو انحراف پر مجبور کرنے سے متعلق آپریشن لوٹس جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس سے بی جے پی حکومت کو پارلیمنٹ میں حلقوں کی نئی حدبندی ، ون نیشن ون الیکشن اور اس قسم کے دوسرے اہم بلوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے گا ۔ یہ ایسے اقدامات ہیں جو بی جے پی کو نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ ملک پر مکمل کنٹرول عطا کرنے کیلئے بہت ضروری ہیں ۔