موسم کی شدت : 2024 میں 250 ملین طلبہ کی پڑھائی متاثر

   

کابل ؍ ڈھاکہ ؍ منیلا : دنیا بھر میں شدید موسم نے 2024 کے دوران تعلیمی سلسلے میں نمایاں رکاوٹیں پیدا کیں۔ پاکستان کی طرح 85 ممالک میں تقریباً 242 ملین طلبہ گرمی کی لہروں، طوفانوں، سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے اپنے اسباق سے محروم رہے۔ عالمی ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی طرف سے جمعرات 23 جنوری کو جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں اسکولوں کی بندش اور ان کو درپیش آپریشنل رکاوٹوں پر انتہائی موسمیاتی واقعات کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں گرمی کی لہروں کو تعلیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ گزشتہ برس سخت اور شدید موسم کی وجہ سے ہر سات میں سے ایک طالب علم کلاس سے باہر رہا۔ شدید موسم طلبہ کی صحت اور حفاظت کے لیے خطرہ تھا اور طالب علموں کی تعلیم طویل المدتی بنیادوں پر متاثر ہوئی۔ شدید موسم کی وجہ سے جہاں سب سے زیادہ اسکول متاثر ہوئے، ان ممالک میں افغانستان، بنگلہ دیش، موزمبیق، پاکستان اور فلپائن شامل ہیں۔