موسم گرما میں دودھ کی قلت کا امکان ، وجئے ڈیری کی ذخیرہ اندوزی

   

تلنگانہ سطح سے دودھ کی قلت کا آغاز ، دیگر ڈیری فارمس کی بھی حکمت عملی
حیدرآباد۔ موسم گرما کے شدت اختیار کرنے کے بعد اس سال پانی کی نہیں بلکہ ریاست کے عوام کو دودھ کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ان خدشات کے پیش نظر ریاست میں ڈیری مالکان کی جانب سے دودھ کے ساتھ ساتھ دودھ کے پاؤڈر کی ذخیرہ اندوزی کی جانے لگی ہے تاکہ ریاست میں دودھ کی قلت کی صورت میں پاؤڈرکے ذریعہ تیار کردہ دودھ فروخت کرتے ہوئے طلب کو پورا کیا جاسکے۔وجئے ڈیری کی جانب سے 230روپئے فی کیلو کے حساب سے 20ٹن پاؤڈر خریدا گیا ہے تاکہ قلت کی صورت میں دودھ کی طلب کو پورا کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہ ہونے پائے۔ ریاست میں دودھ کی قلت سے نمٹنے کیلئے وجئے ڈیری انتظامیہ یومیہ 50ہزار لیٹر دودھ ریاست آندھرا پردیش اور کرناٹک سے حاصل کررہا ہے تاکہ ریاست تلنگانہ میں موجود دودھ کی طلب کو پورا کیا جاسکے۔بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں دودھ کی طلب میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے وجئے ڈیری اور دیگر ڈیری مالکان کی جانب سے پاؤڈر حاصل کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ اب جبکہ گرما کے ابتدائی ایام ہیں ان ایام کے دوران ہی دودھ کی قلت ریکارڈ کی جا رہی ہے اوران حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ آئندہ دنوں کے دوران مزید قلت ریکارڈ کی جائے گی۔ تلنگانہ کے مواضعات میں جہاں سے عوام بالخصوص بھینس اور گائے رکھنے والوں کی جانب سے دودھ ڈیری کو فروخت کیا جاتا تھا ان مواضعات سے دودھ حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ وجئے ڈیری کے ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں دودھ کی قلت کے پیش نظر ڈیری انتظامیہ کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سال گذشتہ ماہ اپریل اور مئی کے دوران لاک ڈاؤن کے سبب دودھ کی فروخت میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی جس کے سبب ماہ جولائی تک اس دودھ کے ذریعہ پاؤڈر تیار کیا جاتا رہا اور تین ماہ قبل تک بھی دودھ کے پاؤڈر کی قیمت 150 سے 200 روپئے فی کیلو رہی لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔بتایا جاتاہے کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وجئے ڈیری کے علاوہ دیگر ڈیری مالکان نے بھی پاؤڈر خریدنا شروع کردیا ہے تاکہ آئندہ چند ماہ کے دوران دودھ کی قلت سے محفوظ رہنے کیلئے دودھ نکالنے والوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بہترین قیمتوں کی فراہمی کے اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔