موسیٰ ندی پراجکٹ کو ترقی دینے کے اقدامات میں تیزی

   

ایف ٹی ایل و بفرزون میں 12 ہزار غیرمجاز تعمیرات کی نشاندہی، اندراماں مکانات دینے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) موسیٰ ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ موسیٰ ندی کو ترقی دینے پراجکٹ پر خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ پیشرفت کررہا ہے۔ ایف ٹی ایل اور بفرزون کے اندر عارضی اور مستقل تعمیرات کو عنقریب منہدم کردیا جائے گا۔ اس انہدامی کارروائی میں گھروں سے محروم افراد کو اندراماں مکانات دینے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ متعلقہ خاندانوں کی فہرست جلد جاری کی جائیگی۔ مکانات کی فراہمی کے بعد انہدام کا آغاز کیا جائیگا۔ اس کیلئے حیڈرا کی خدمات سے استفادہ کیا جائے گا۔ موسیٰ ندی کے ایف ٹی ایل اور بفرزون میں شیڈس اور گوداموں کا بھی انہدام ہو گا۔ حکومت نے پہلے تمام بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے بعد ہی ترقیاتی کاموں کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ تین ماہ سے حیدرآباد، متحدہ ضلع رنگاریڈی میں مختلف محکمہ جات، مال، سروے، ایم آر ڈی، سی ایل کے عہدیدار مغرب میں آوٹر رنگ روڈ سے مشرق کے کورمولا کے آوٹر تک سروے کے کام کو مکمل کرلیا ہے۔ نارسنگی تا ناگول برج تقریباً 25 کیلو میٹر ایف ٹی ایل اور بفرزون میں 12 ہزار سے زیادہ غیرمجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی جس میں حیدرآباد کے آصف نگر، عنبرپیٹ، بہادرپورہ، چارمینار، گولکنڈہ، حمایت نگر، نامپلی، سائبرآباد کے حدود میں کثیر غیرقانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ۔ ان میں سب سے زیادہ بہادرپورہ ، سعیدآباد اور عنبرپیٹ میں غیرمجاز تعمیرات ہیں۔ زیادہ کالونیاں موسیٰ ندی میں تعمیر کی گئیں۔ 30,40,60 گز اراضیات پر مکانات تعمیر کئے گئے ہیں۔ ان میں10 فٹ راستہ بھی نہیں ہے۔ رنگاریڈی گنڈی پیٹ، راجندرنگر، سرورنگر، میڑچل کے اپل حدود میں رامنتاپور، بھگائیت و دیگر علاقوں میں کالونیاں تعمیر کردی گئیں۔ ذرائع سے پتہ چلاکہ ناجائز تعمیرات کو برخواست کرنے کی ذمہ داری حیڈرا کو سونپی گئی ۔ تاہم کئی خاندان برسوں سے موسیٰ ندی کے اطراف زندگی گذار رہے ہیں انہیں اندراماں مکانات فراہم کرکے مطمئن کرنے حکمت عملی ہے۔ چند لوگ بڑے گودام اور شیڈس بناکر تجارت کررہے ہیں۔ پہلے انہیں ہٹانے انہدامی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔2