حیدرآباد۔یکم۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے سلسلہ میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے تیز رفتار پیشرفت کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی اس پراجکٹ کے لئے حصول اراضیات کے سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لاتے ہوئے پراجکٹ کے ابتدائی دو مراحل کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار کرلی جائے گی۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک ADB کی جانب سے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے لئے قرض کی منظوری کا مکتوب وصول ہونے کے بعد حکومت نے اس منصوبہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں اورتفصیلات کے مطابق پراجکٹ کا پہلا مرحلہ 1Aا ور 1B ہوگا جو کہ 5500 کروڑ سے زیادہ کا ہے۔ مرحلہ 1A جو کہ 9.2کیلو میٹر پر محیط ہے اور حمایت ساگر سے باپو گھاٹ تک ہے اس کی تخمینی لاگت 2500 کروڑ لگائی گئی ہے جبکہ مرحلہ 1B عثمان ساگر سے باپوگھاٹ کے درمیان ہوگا اور اس کی تخمینی لاگت 3141 کروڑہوگی۔ ذرائع کے مطابق حکومت تلنگانہ کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ میں موسیٰ ندی میں عملی طور پر صفائی کے کاموں کے آغاز کے ساتھ 2میٹر ندی کو گہرا کرتے ہوئے اس میں موجود گندگی کو صاف کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ علاو ہ ازیں اس منصوبہ کے لئے درکار اراضی کے متعلق تیار کردہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مرحلہ 1Aاور1B کے لئے مجموعی اعتبار سے 199.89ہیکٹراراضی درکار ہے جس میں 137.72 ہیکٹر پٹہ اراضی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ 62.17 ہیکٹر اراضی کے متعلق کہا جا رہاہے کہ یہ سرکاری اراضیات ہیں جو کہ حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیاگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے موسیٰ ندی کی خوبصورتی میں اضافہ کے لئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق ابتدائی مرحلہ میں حصول اراضیات کو یقینی بنایا جائے گا اور حصول اراضیات میں شفافیت لانے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے حصول اراضیات قوانین 2013 پر مؤثر عمل آوری کے ذریعہ مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ موسیٰ ندی کے دونوں جانب پراجکٹ کے تحت 50 میٹر تک بفر زون کو ترقی دینے کے علاوہ ندی کے کناروں کو ترقی دینے کے اقدامات کئے جائیں گے۔حکومت نے ندی کے اس حصہ میں 109 ہیکٹر اراضی کو گرین بیلٹ کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ جو تفصیلات تیار کی گئی ہیں اس کے مطابق پراجکٹ پر کام کرنے کے لئے زائد از 3000 ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور 100 مستقل ملازمین کو تقررات فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت نے موسیٰ ندی کے اس پراجکٹ کو قابل عمل بنانے کے لئے حاصل کی جانے والی اراضیات کے استعمال کی تفصیلات بھی تیار کرلی ہیں اور اس سلسلہ میں رپورٹ پر عمل آوری سے متعلق عہدیداروں سے مشاورت کا عمل بھی شروع کیا جاچکا ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے قرض کی منظوری کے سلسلہ میں مکتوب وصول ہونے کے ساتھ ہی ریاستی حکومت نے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے اپنے منصوبہ کو تیز کرتے ہوئے نہ صرف حصول اراضیات کے متعلق تفصیلات کو منظر عام لانے کے اقدامات شروع کردئیے ہیں بلکہ سیاحت کے فروغ کے لئے تیار کی جانے والی پالیسی کو بھی قطعیت دینے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔3