موسی ندی پر 540 کروڑ کی لاگت سے 14 برجس تعمیر کئے جائیں گے: کے ٹی آر

,

   

عثمان ساگر کے قریب نئے پارک کی تعمیرات آخری مراحل میں ، محکمہ بلدی نظم و نسق کی سالانہ رپورٹ کی اجرائی
حیدرآباد /3 جون ( سیاست نیوز ) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ ترقی و بہبود میں تلنگانہ ملک بھر میں سرفہرست ہے ۔ ملک کے ٹاپ 10 شہروں کا تعلق تلنگانہ سے ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت غریبوں کو باوقار رہائش فراہم کر رہی ہے ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی سال 2021-22 کی رپورٹ کی اجرائی کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال کسی کے پوچھنے سے قبل پروگریس رپورٹ جاری کر رہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے بہترین خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کی ۔ کوونا بحران کے دوران بھی محکمہ کے عملے نے ذمہ دارانہ رول ادا کیا ہے ۔ کورونا ٹیکہ اندازی سے محکمہ کے ملازمین نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد میں فضلہ مواد سے 62 میگا واٹ برقی پیدا کی جائیگی ۔ تمام بلدیات میں فضلہ کی صفائی کی جارہی ہے ۔ 100 کروڑ کی لاگت سے آوٹر رنگ روڈ پر مکمل ایل ای ڈی لائیٹس لگائی گئی ہیں ۔ سولار روف ٹاپ کے ساتھ 21 کیلومیٹر سائیکل ٹریک قائم کیا جارہا ہے ۔ 1000 کروڑ کے مصارف سے نہروں کو ترقی دی جارہی ہے ۔ اس سال سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ موسی ندی پر 540 کروڑ روپئے کے مصارف سے 14 برجس کی تعمیرات کا جلد آغاز کیا جائے گا ۔ نانک رام گورہ تا ٹی ایس پی اے تک سرویس روڈ کو توسیع دی جائیگی ۔ عثمان ساگر کے قریب 18 ایکر پر قائم کیا جانے والا پارک آخری مراحل میں ہے ۔ تاریخی ہیرٹیج عمارتوں کو ترقی دی جارہی ہے ۔ 2410 کروڑ روپئے کی لاگت سے 104 نئی لنک روڈس تعمیر کی جارہی ہے ۔ حیدرآباد میں 37 لنک روڈس کا آغاز کیا گیا جن میں 7 روڈس کی تعمیرات مکمل ہوگئی ہیں ۔ ماباقی روڈس آخری مراحلہ میں ہیں ۔ اُپل اور مہدی پٹنم میں اسکائی ویز تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ ریاست میں نئی میونسپلٹیز کے ساتھ اربن ڈیولپنٹ اتھارئیز قائم کئے گئے ہیں ۔ مستقبل کی حکمت عملی تیار کرکے شہروں میں انفراسٹرکچر کو ترقی دی جارہی ہے ۔ لاک ڈاؤن میںسڑکیں ، نالے اور فلائی اوورس تعمیر کئے گئے ۔ ریاست کی 141 میونسپلٹیز میں 3700 کروڑ کی لاگت سے ترقیاتی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہر ماہ بلدیات کو فنڈ جاری کئے جارہے ہیں ۔ شہری علاقوں میں 10 نکاتی ایجنڈے کے ساتھ بنیادی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ۔ بہت جلد 50 ہزار آبادی والی ہر میونسپلٹی میں وارڈ آفیسرس کی جائیدادوں کو منظوری دے کر تقررات کئے جائیں گے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ٹاملناڈو اور کیرالا کے بعد تلنگانہ میں 46.8 فیصد آبادی شہری علاقوں میںہے۔ انہوں نے کہا کہ 46.8 فیصد آبادی زمین کے 3 فیصد حصہ پر محیط ہے۔ 2050 تک 50 فیصد آبادی شہرمیں رہے گی ۔ جس کا نیتی آیوگ نے انکشاف کیا ۔ تلنگانہ میں آئندہ چار پانچ سال میں 50 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہے گی ۔ شہر میں مکانات کی فروخؒ میں 142 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں تلنگانہ دوسرے نمبر پر ہے ۔ ن