پروفیسر کے خلاف اسسٹنٹ پروفیسر کی شکایت پر کارروائی سے گریز، اڑان جیسی اسکیمات پر سوالات
حیدرآباد۔26۔ستمبر۔(سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں جنسی ہراسانی کا معاملہ میں کی جانے والی شکایت کے 9 ماہ گذرنے کے باوجود انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی کی جانب سے کاروائی نہ کئے جانے سے یونیورسٹی انتظامیہ پر کئی سوالات کھڑے کئے جانے لگے ہیں اور کہا جارہاہے کہ جب اساتذہ کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کے معاملہ میں کاروائی کے بجائے تحقیقاتی رپورٹ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی کی تشکیل دیا جانا ناقابل فہم ہے۔شعبہ اسلامیات میں خدمات انجام دینے والی خاتون نے جب ICC میں اس بات کی شکایت کی ہے کہ ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملہ پر فوری حرکت میں آنے کے بجائے ICC کی رپورٹ کا انتظار کیا اور اس کے بعد کاروائی کے بجائے اب ریٹائرڈ جج کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے کیمپس میں مقیم شعبہ اسلامیات میں خدمات انجام دینے والے پروفیسر کے خلاف اسسٹنٹ پروفیسر کی شکایت اور انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی کی جانب سے ہراسانی کی توثیق کے بعد دوبارہ تحقیقات کے فیصلہ کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے رہنمایانہ خطوط ‘ اصولوں اور قوانین کے خلاف قرار دیا جا رہاہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شکایت کنندہ اسسٹنٹ پروفیسر نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ تحقیقات کے فیصلہ کو تلنگانہ ہائی کورٹ میں چیالنج کرتے ہوئے دوبارہ تحقیقات پر حکم التواء حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ بالخصوص رجسٹرار یونیورسٹی اور وائس چانسلر یونیورسٹی کے موقف پر کئی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق ICC کی رپورٹ اور سفارشات پر انتظامیہ کو اندرون 30 یوم کاروائی کرنی ہوتی ہے لیکن اس کاروائی کے بجائے نئی تحقیقات کے آغاز نے شکایت کنندہ کو عدالت سے رجوع ہونے کے لئے مجبور کردیا ہے۔بتایاجاتاہے کہ ملزم نے ICC کی رپورٹ اور سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اپنے موقف کو متعلقہ مجاز اتھاریٹی کے روبرو پیش کیا ہے اور ان کے مطابق معاملہ اب بھی زیر غور ہے۔ ملزم کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کے مطابق ICC کی کاروائی اور سفارشات میں ان کے جواب ‘ دفاع اور ریکارڈ پر موجود مواد کو منصفانہ طور پر زیر غور نہیں لایا گیا۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اپنے ’حیدرآباد‘ کیمپس کو لڑکیوں اور خواتین کے لئے محفوظ قرار دیتے ہوئے لڑکیوں کے لئے ’اڑان‘ جیسی اسکیمات کا اعلان کرتے ہوئے ان کی تعلیمی خودمختاری اور انہیں عملی زندگی میں بااختیار بنانے کے دعوے کرتی ہے لیکن اسی انتظامیہ کی جانب سے ICC کی رپورٹ اور سفارشات کے باوجود کاروائی کے بجائے ’نئی تحقیقات ‘ کا آغاز کئے جانے کا فیصلہ باعث حیرت ہے۔H/M/3