بی آر ایس ورکرس پر جو حملے ہورہے ہیں ، ان کا بعد میں حساب ہوگا ، وال رائٹنگ میں حصہ لیا
حیدرآباد۔ 16 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کہا کہ مَیں میرے والد کی طرح نرم مزاج کی نہیں ہوں، مجھ میں تھوڑی بہت غنڈہ گردی ہے‘‘۔ مَیں، کانگریس کی دھمکیوں سے ڈرنے اور گھبرانے والی نہیں ہوں۔ جو بھی بی آر ایس کے قائدین اور کارکنوں پر حملے کررہے ہیں، ان کے نام مجھے بتائیں، میں اُن کے نام اپنی پنک ڈائری میں نوٹ کروں گی اور بہت جلد بی آر ایس کی حکومت قائم ہوگی جس کے بعد سب کا حساب کتاب کیا جائے گا۔ کویتا نے آج جگتیال چوراہے پر بی آر ایس کی سلور جوبلی تقاریب کے ضمن میں وال رائٹنگ تحریر کیا جس کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 اپریل کو ورنگل میں پارٹی کی 25 ویں یوم تاسیس تقریب منعقد کی جارہی ہے، جس میں پارٹی کے تمام قائدین اور کارکن شرکت کرتے ہوئے اس کو کامیاب بنائیں اور ملک کے عوام کو یہ پیغام دیں کہ بی آر ایس پارٹی عوامی جماعت ہیں، عوامی مسائل کو حل کرنے کیلئے اسی طرح جدوجہد کرے گی، جس طرح تلنگانہ کیلئے جدوجہد کی جائے گی۔ بی آر ایس لیڈر کویتا نے کہا کہ کانگریس حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ مسائل کو حل کرتے ہوئے عوام کو راحت پہنچانے کے بجائے تنازعات پیدا کرتے ہوئے اصل موضوعات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ ریونت ریڈی حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوچکی ہے۔ عوام کو یہ بات سمجھ میں آچکی ہے۔ انتخابات میں سماج کے تمام طبقات سے ڈھیر سارے وعدے کئے گئے تھے، عوام نے ان وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کانگریس کو ووٹ دیا تھا۔ ریونت ریڈی حکومت کانگریس کے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے وعدوں کو یاد دلانے والوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرواتے ہوئے انہیں ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کررہی ہے۔ بی آر ایس قائدین کو فرضی مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے تاکہ پارٹی کے حوصلے پست ہوجائیں۔ بی آر ایس پارٹی تحریک سے جنم لینے والی ہے۔ اس نے تحریک کے دوران کئی مقدمات کا سامنا کیا۔ کانگریس حکومت کی جانب سے جو مقدمات درج کئے جارہے ہیں، اس سے پارٹی کے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ مزید بلند ہوں گے۔ ’’دھوکے کا دوسرا نام کانگریس ہے‘‘۔2