مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کے آؤٹ سورس کرنے سے متعلق وزیراقلیتی بہبود ناواقف

   

محکمہ اقلیتی بہبود کے احکامات اور اقدامات سے مسلمانوں کے ساتھ لاپرواہی کا ثبوت
حیدرآباد۔15۔جون(سیاست نیوز) مکہ مسجد و شاہی مسجد باغ عامہ کے ملازمین کی خدمات جو کنٹراکٹ پر تھیں انہیں آؤٹ سورس کرنے کے احکامات سے خود ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کوپلا ایشور واقف نہیں ہیں ۔ کوپلا ایشور کو جب مکہ مسجد و شاہی مسجد باغ عامہ کے ملازمین کو محکمہ اقلیتی بہبود کی کوتاہی کے سبب محکمہ فینانس کی جانب سے آؤٹ سورس کرتے ہوئے ایجنسی کے ذریعہ تنخواہوں کی اجرائی کے فیصلہ کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلہ سے واقف نہیں ہیں اور اس معاملہ میں معلومات حاصل کریں گے۔ وزیر اقلیتی بہبود کو اتنے اہم فیصلہ کا علم نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار حکومت کو تاریکی میں رکھتے ہوئے گمراہ کن رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔ خطیب مکہ مسجد مولانا حافظ محمد رضوان قریشی نے آج حج تربیتی اجتماع کے دوران وزیر اقلیتی بہبود مسٹر کوپلا ایشور کو محکمہ فینانس کے احکاما ت کے متعلق واقف کرواتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چند رشیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں اس بات کی تیقن دیا تھا کہ تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی ملازمتو ںکو مستقل و باقاعدہ بنایا جائے گا لیکن آج کے اخبارات میں اس بات کی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ حکومت کے محکمہ فینانس نے ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی لاپرواہی کے سبب دونوں مساجد کے عملہ کی خدمات کو کنٹراکٹ سے مستقل کرنے کے بجائے کنٹراکٹ سے ہٹا کر ایجنسی کے توسط سے آؤٹ سور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا حافظ محمد رضوان قریشی نے جب یہ بات وزیر اقلیتی بہبود کو بتائی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس بات سے قطعی لاعلم ہیں کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے لاپرواہی برتی گئی ہے اور محکمہ فینانس نے اس سلسلہ میں جی او بھی جاری کردیا ہے۔وزیر اقلیتی بہبود کی دونوں تاریخی مساجد کے انتہائی اہم معاملہ سے اس قدر لاپرواہی اور بے اعتنائی والے جواب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کو دونوں مساجد کے معاملہ بالخصوص ملازمین کے امور سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں اور حکومت میں وزیر کے رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کے مسلمانوں کو تلنگانہ راشٹر سمیتی سے دور کرنے میں اہم رول عہدیدارادا کررہے ہیں اور ان کے اس رویہ کے جو نتائج برآمد ہوں گے اس کے لئے خود حکومت ذمہ دار ہوگی کیونکہ جب وزیر کو اقلیتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور عہدیدارو ںکی جانب سے مخالف مسلم فیصلے کئے جائیں تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے جو کہ حکومت کی بدنامی کا سبب بن سکتے ہیں ۔م