ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر حذف کئے گئے ہیں۔ کانگریس لیڈر کا دعویٰ۔ ہم الزامات کا تحریری جواب دیں گے : الیکشن کمیشن
نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مہاراشٹرا انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں ہمارے ووٹ کم نہیں ہوئے ہیں، بلکہ بی جے پی کے ووٹ بڑھے ہیں۔ راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ مہاراشٹراا میں گزشتہ 5 سالوں میں 32 لاکھ ووٹروں کا اضافہ کیا گیا،لیکن 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات کے درمیان 39 لاکھ ووٹروں کا اضافہ کیا گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے اتنے ووٹر کہاں سے آئے؟راہول گاندھی نے این سی پی (شرد پوار) لیڈر سپریہ سولے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راوت کے ساتھ دہلی میں پریس کانفرنس کی۔ اس میں انہوں نے کہا، مہاراشٹرا حکومت کے مطابق ریاست میں 9.54 کروڑ بالغ ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مہاراشٹرا میں 9.7 کروڑ ووٹر ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ کمیشن عوام کو بتا رہا ہے کہ مہاراشٹرا میں آبادی سے زیادہ ووٹر ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ کماٹھی اسمبلی سیٹ کا ذکر کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس کو لوک سبھا میں 1.36 لاکھ اور اسمبلی میں 1.34 لاکھ ووٹ ملے لیکن بی جے پی کا ووٹ 1.19 لاکھ سے بڑھ کر 1.75 لاکھ ہو گیا۔ یعنی نئے ووٹروں نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔ ہمیں دونوں انتخابات کے لیے ووٹر لسٹ کی تفصیلات درکار ہیں۔انھوں نے الیکشن کمیشن پر انگلی اٹھائی اور کچھ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ انتخاب کو متاثر کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں اب الیکشن کمیشن نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے الزامات کا جواب تحریری شکل میں دے گا۔الیکشن کمیشن نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیے گئے پوسٹ میں کمیشن نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی پارٹیوں کو ایک اہم اسٹیک ہولڈر کی شکل میں دیکھتا ہے۔ ہمارے لیے ووٹرس سب سے اہم ہیں، لیکن ہم سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ دیے گئے کسی بھی مشورہ اور اٹھائے گئے سوالات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن ملک بھر کے انتخابات میں یکساں طریقے سے اختیار کیے گئے پوری طرح سے دلائل پر مبنی اور عمل پر مبنی میٹرکس کے ساتھ سبھی سوالوں کا تحریری شکل میں جواب دے گا۔ پریس کانفرنس میں سنجے راوت نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس ضمیر ہے تو اسے راہول گاندھی کے سوالوں کا جواب دینا چاہیے، لیکن الیکشن کمیشن غلام کی طرح کام کر رہا ہے۔اب یہ 39 لاکھ ووٹر بہار جائیں گے۔ یہ تیرتے ووٹر ہیں۔ پہلے ہم بہار جائیں گے اور پھر یوپی جائیں گے۔ ہمیں مہاراشٹرا میں شکست ہوئی، میں الیکشن کمیشن سے اپیل کروں گا کہ آپ کھڑے ہوں، اپنے اردگرد سے کفن ہٹائیں اور جواب دیں۔این سی پی شرد پوار لیڈر سپریہ سولے نے کچھ سیٹوں پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان حلقوں میں بھی بیلٹ پیپر پر دوبارہ انتخابات کرائے جائیں جہاں ہمارے امیدوار جیتے تھے۔ 11 سیٹیں ایسی ہیں جہاں انتخابی نشانات کے درمیان کنفیوژن کی وجہ سے ہم الیکشن ہار گئے تھے۔ یہاں تک کہ اقتدار میں موجود پارٹی نے بھی اسے تسلیم کر لیا ہے۔ ہم نے توتاری سے نشان تبدیل کرنے کی کئی درخواستیں کیں، لیکن درخواست پر غور نہیں کیا گیا۔ ہم صرف الیکشن کمیشن سے منصفانہ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔