ممبئی۔ شیو سینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ نے ایک بڑا دعویٰ کر کے مہاراشٹرا کی گرم سیاست میں گھی ڈال دیا ہے۔ ’سامنا‘ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی جے پی نے مہاراشٹرا کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی خطرناک سازش رچی ہے۔ ’سامنا‘ میں شائع ایک خبر کے مطابق دہلی میں بیٹھے بی جے پی لیڈروں نے مہاراشٹرا کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ممبئی بھی شامل ہے۔ اس عظیم مہاراشٹرا ریاست کو تباہ کرنے کے لیے داغ بیل ڈالی جا رہی ہے۔ اخبار نے سوال کیا ہے کہ خود کو ہندوتوا کا حامی اور مہاراشٹرا کا حامی کہنے والوں کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟جو بی جے پی مہاراشٹرا پر لگاتار حملے کر رہی ہے، یہ لوگ اسی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں سے رہنمائی لے کر اپنے اندر توانائی پیدا کر رہے ہیں۔ مہاراشٹرا حکومت کو گرانے کا کاروبار کون کر رہا ہے؟ اس سازش کا انکشاف ہونے کے بعد بھی یہ لوگ اس کے نام پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو ای ڈی کے جال میں پھنسا کر ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔
’سامنا‘ میں کہا گیا ہے کہ ہم مہاراشٹر کو توڑنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے، اگر ایسا کوئی شیو سینک کہتا تو شور مچانے لگتے ہیں کہ ان سے ہماری جان کو خطرہ ہے۔ بیلگام کے مراٹھیوں پر مظالم پر ان کے منہ بھی بند ہوں گے۔ شیو سینا نے ان تمام موضوعات پر نہ صرف مضبوط کردار ادا کیا ہے بلکہ سڑکوں پر لڑائی بھی لڑی ہے۔ جو لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے ہیں، انہیں ایک بار مہاراشٹر کے لیے اپنی عزت نفس کی جانچ کرنی چاہیے۔شیو سینا کے ترجمان ’سامنا ‘میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ باغی ارکان اسمبلی سے بات چیت کی۔
کہا جا رہا ہے کہ اس بات چیت میں شاہ نے باغیوں کی نااہلی پر بھی بات کی۔ شاہ نے یہ یقین دہانی کرائی کہ باغی ایم ایل اے کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امت شاہ سے بات چیت کے بعد باغی ایم ایل اے میں جوش و خروش کا عالم تھا۔ جوش بڑھانے کے لیے وزیر داخلہ شاہ نے باغی ایم ایل اے کو مرکزی سیکورٹی فراہم کی۔ گوہاٹی میں رہ رہے ارکان اسمبلی شاہ کے ساتھ بات چیت کے بعد اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے ا?سام میں مزید 7 دن رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔